حکومتِ سندھ محض نمائشی منصوبوں اور افتتاحی تقاریب پر اکتفا کر رہی ہے،علامہ حیات عباس نجفی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
ایک بیان میں رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ منصوبے کے پیچھے موجود اصل سیاسی و انتظامی کرداروں کو بے نقاب کیا جائے، فرانزک آڈٹ کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے اور آئندہ ایسے تمام منصوبوں میں شفاف، اوپن ٹینڈرنگ اور آزاد نگرانی کو لازمی بنایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی کا کہنا تھا کہ سندھ سولر انرجی منصوبے میں اربوں روپے کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کا انکشاف انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور اگر سندھ بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے تو حقائق مذید سامنے آجائیں گے، حکومتِ سندھ محض نمائشی منصوبوں اور افتتاحی تقاریب پر اکتفا کر رہی ہے، پورے صوبے میں حکمران جماعت کی بے دریغ لوٹ مار جاری ہے، شہر بھر میں ٹوٹی سڑکوں، ناقص شفاف پانی و سوریج نظام، غیر محفوظ بس اسٹاپس اور غیر یقینی ٹرانسپورٹ نظام کا شکار ہے، ڈبل ڈیکر بسوں کے روٹ سے متعلق ابہام خود حکومتی نااہلی کا ثبوت ہے، چند ڈبل ڈیکر بسیں چلا کر ٹرانسپورٹ کے سنگین بحران کو حل نہیں کیا جا سکتا، اگر واقعی عوامی سہولت مقصود ہوتی تو روٹس، ٹائم ٹیبل، کرایہ اور حفاظتی انتظامات پہلے ہی واضح کر دیئے جاتے اور پائیدار ٹرانسپورٹ پالیسی پیش کی جاتی، مصروف ترین شاہراؤں کے راستے پر ڈبل ڈیکر بسوں کا تجربہ ٹریفک کے مسائل میں مزید اضافہ ہی کرے گا اور اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی سامنے نہیں لائی گئی، ایسے میں ڈبل ڈیکر بسوں کے اعلانات عوام کی نگاہ میں مضحکہ خیر ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ بھر میں عالمی بینک کی فنڈنگ سے مکمل ہونے والے منصوبوں میں شفافیت اور احتساب کو پسِ پشت ڈال کر منظم انداز میں بندر بانٹ کی گئی، ایسا لگتا ہے کہ یہ تمام منصوبے عوامی فلاح کے بجائے مخصوص مفادات کے لیے ترتیب دیئے جاتے ہیں، کمیٹی کی جانب سے اینٹی کرپشن، نیب اور ایف آئی اے کی تحقیقات کا نوٹس لینا خوش آئند ہے، تاہم صرف انکوائریاں کافی نہیں ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قوم کے لوٹے گئے پیسے کی مکمل ریکوری قومی خزانے میں واپسی یقینی بنائی جائے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ منصوبے کے پیچھے موجود اصل سیاسی و انتظامی کرداروں کو بے نقاب کیا جائے، فرانزک آڈٹ کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے اور آئندہ ایسے تمام منصوبوں میں شفاف، اوپن ٹینڈرنگ اور آزاد نگرانی کو لازمی بنایا جائے، عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیئے ناکام اور کرپٹ وزراء کو فوری برطرف کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈبل ڈیکر
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ