ایران میں جاری مظاہرین پر تشدد ہونے کی صورت میں خاموش نہیں بیٹھے گے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے پُرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کا راستہ اپنایا تو امریکا خاموش تماشائی نہیں رہے گا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’سوشل ٹروتھ‘‘ پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی صورت میں امریکا ان کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتا ہے
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں پُرامن احتجاج کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا انہیں قتل کیا گیا تو امریکا ان کی مدد کے لیے آگے آئے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی انتظامیہ مظاہرین کو بچانے کے لیے ہر طرح سے تیار ہے اور اس حوالے سے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر کے اس بیان پر ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے امریکی دھمکی کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت افراتفری اور عدم استحکام کو جنم دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ اس طرح کے بیانات حالات کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ کئی دنوں سے مہنگائی میں اضافے اور قومی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہے۔ ان مظاہروں کے دوران گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں کم از کم 6 افراد ہلاک جبکہ 30 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ تازہ صورتحال نے نہ صرف ایران کے اندر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔