اندورمیں آلودہ پانی پینے سے 9 افراد ہلاک، درجنوں اسپتال منتقل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
بھارت(نیوزڈیسک) بھارتی شہر اندورمیں آلودہ پانی پینے کے باعث 9 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد شہری مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال سے شہر میں ڈائریا کی بیماری تیزی سے پھیل گئی ہےحکام نے صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر شہر کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
اسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی تعداد کے باعث جگہ کم پڑ گئی، جس کے نتیجے میں متعدد متاثرہ افراد کو گھروں پر ہی علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی معطل کر دی گئی ہے اور آلودگی کے ذرائع کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
---فائل فوٹوراولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے باعث نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔
پولیس کے مطابق تھانہ نیو ٹاؤن میں بچی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ڈاکٹرز نے اہل خانہ کو بتایا کہ نرس سے غلطی کے باعث بچی کا انگوٹھا کٹ گیا۔
راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال سے اغوا کئے گئے نوزائیدہ بچے کو سائنٹیفک ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے بازیاب کرالیا گیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے واقعے کی انکوائری کرانے کی یقین دہانی کرائی، تاہم تاحال اہلِ خانہ کو حقائق سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق میڈیکو لیگل رپورٹ میں بھی نومولود بچی کا انگوٹھا ضائع ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی کو سانس لینے میں دشواری کے باعث ہولی فیملی اسپتال کی نرسری میں داخل کیا گیا تھا، پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔