یوکرینی ڈرون کا ہدف پیوٹن تھے، شواہد امریکا کے ساتھ شیئر کریں گے: روسی حکام
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روسی حکام نے کہا ہے کہ یوکرینی ڈرونز کا ہدف صدر ولادیمیر پیوٹن کی صدارتی رہائش گاہ تھی۔
عالمی خبر ایجنسی کے مطابق روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرینی ڈرونز سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ڈی کوڈ کر لیا گیا ہے، یہ حملہ شمالی نووگوروڈ ریجن میں واقع صدارتی رہائش گاہ پر کیا جانا تھا، حملے کے شواہد امریکا کے ساتھ بھی شیئر کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی یہ کہہ چکے ہیں یوکرین نے نووگوروڈ کے علاقے میں پیوٹن کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس سے ماسکو کی مذاکراتی پوزیشن تبدیل ہو جائے گی۔
لاوروف کا کہنا تھا کہ یوکرین نے نووگوروڈ میں روسی صدر کی سرکاری رہائش گاہ پر 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز سے حملہ کیا، اس طرح کی لاپروائی کی کارروائیاں بغیر جواب کے نہیں رہیں گی۔
دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے ان الزامات کو روس کی جانب سے گھڑا گیا پروپیگنڈا قرار دیا اور کہا کہ روس ان الزامات کے ذریعے کیف پر حملوں کیلئے جواز پیدا کرنا چاہتا ہے اور امریکا کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رہائش گاہ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔