سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت پر ٹرانسپورٹ مسائل کے حل کیلیے اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250103-2-12
خیرپور میرس (جسارت نیوز )سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں ضلع خیرپور میں ٹرانسپورٹ کے مسائل، شہید ذوالفقار علی بھٹو بس ٹرمینل میں سہولیات کی فراہمی اور بسوں، ویگنوں، کوچز سمیت دیگر ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے اسٹاپ اور آمد و رفت کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈی سی آفس خیرپور کے سچل سرمست ہال میں ڈپٹی کمشنر الطاف احمد چاچڑ کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر الطاف احمد چاچڑ نے کہا کہ ضلع اور شہر میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کا حل ہماری اخلاقی، سرکاری اور ذاتی ذمہ داری ہے، اور قانون کے مطابق ان مسائل کو حل کیا جائے گا۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کوٹ ڈیجی، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) اور ڈی ایس پی سٹی کو ہدایت دی کہ مشترکہ طور پر بس ٹرمینل اور اطراف کے علاقوں کا دورہ کرکے رپورٹ پیش کریں۔ڈپٹی کمشنر نے ٹریفک سارجنٹس، مختیارکاروں اور دیگر متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ غیرقانونی اسٹاپس کے خلاف کارروائی کا آغاز فوری طور پر کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔