گدھوں کی حمایت میں بے تابی اور انسانیت کی توہین پر خاموشی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260103-03-7
سردار احمد تبسم گڈانی
الحمدللہ! اہل سندھ کی اکثریت محب اسلام اور محب وطن ہے لیکن ہمارے یہاں کچھ گم کردہ راہ عناصر نے جماعت اسلامی کے خلاف اپنے دلوں میں انا پرستی کی وجہ سے عداوت پال رکھی ہے۔ یہ مخصوص عناصر جماعت اسلامی کے خلاف اپنے بغض کا اظہار بلاوجہ ہی مختلف طریقوں سے گاہے گاہے کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
اے کاش! جماعت اسلامی سے بلاوجہ خدا واسطے کا بیر رکھنے والے ان مخصوص عناصر کو سوشل میڈیا کا استعمال کرنا معلوم ہوتا تو ان کی توہین نہ ہوتی، لیکن اسے اپنا فرض سمجھتے ہوئے آج ایک مختصر گزارش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ ہمیں ان عناصر کی اس اندھی مخالفت پر بہت دکھ، افسوس اور شرم محسوس ہوتی ہے کہ یہ آخر اپنی عقل اور فہم سے کام کیوں نہیں لیتے؟ اور اپنا سارا زور اور اپنا سارا وقت سوشل میڈیا پر جماعت اسلامی کے خلاف کیوں صرف کر رہے ہیں، دنیا کو ہنسی کا اسٹاک بنا رہے ہیں۔ انہی عناصر نے حال ہی میں ذاتی انا پرستی، مذہبی منافرت، جماعتی منافرت اور سیاسی مبالغہ آرائی کا سہارا لے کر حد پار کر دی ہے۔ مکمل طور پر نان ایشو پر گدھوں کے گلے میں سرکاری نمبر پلیٹ لٹکا کر چند پارٹیوں نے حکومت اور حکمرانوں کے کندھے پر چڑھا دیا ہے اور کراچی میں کرپشن اور مظالم کے خلاف مظاہرے نے انسان کے دل میں شیطان کو بٹھا دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے خلاف ایک پوسٹ تیار کی گئی جس میں کہا گیا کہ اجرک پر بہتان لگایا جا رہا ہے، اور فیس بک پر شیئر کیا گیا۔ بس دیکھتے ہی دیکھتے علامہ محمد راشد سومرو، سرکی مشتاق اور امریکن امتیاز چانڈیو سمیت کئی اپنے تئیں دانشوروں نے اسے کاپی پیسٹ کر کے فیس بک کو اپنی ’’خوش اخلاقی‘‘ اور ’’شائستہ حرکتوں‘‘ سے بھر دیا۔ یہ نہ تو اجرک کی توہین تھی اور نہ ہی اجرک کا سوال تھا۔ اس کے بجائے وہ جماعت اسلامی کے مخالفین انسانوں، انسانیت اور حافظ قرآن کی جس قدر ہوسکی توہین کرتے رہے۔ یہ غلط عمل اور ان کی یہ حالت دیکھ کر دکھ ہوا۔ بہرحال جماعت اسلامی درحقیقت ملک کی واحد جماعت ہے جو فرقہ واریت سے پاک ہے، الجھی نہیں، تعصب سے پاک ہے، کسی گروہ کے عقائد کو ترجیح نہیں دیتی، کرپشن سے پاک ہے، زنا سے دور ہے، اس کے وابستگان والدین کے فرمانبردار ہیں، نماز کے پابند ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت اور مطالعہ کا شوق ہے، حدیث کا مطالعہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ یا اللہ مجھ پر رحم فرما، نہ مبالغہ آرائی، نہ مبالغہ آرائی، نہ سود، نہ شرک، نہ بے حیائی، یعنی جو مہذب اور بہترین انسان ہیں، اس نازک نفس کو، الحمدللہ کبیرہ گناہوں سے محفوظ رکھے، جماعت اسلامی کے رکن سے لے کر مرکزی رہنما تک۔ یہ مثالیں کراچی کے میئر، کے پی کے کے وزراء، سینیٹرز، اراکین اسمبلی وغیرہ کی دیانتداری کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں، ہم ان کی خدمات کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے، خواہ وہ الخدمت ہو۔ یتیموں کے لیے قائم کردہ عالی شان آغوش ادارے ہوں یا پھر سیکڑوں فلاحی اسپتال اور تعلیمی ادارے، ملکی و غیر ملکی اربوں روپے غریبوں اور ناداروں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ جماعت کے چھوٹے ملازمین سے لے کر اعلیٰ ترین افسران تک کی دیانت کرپشن سے پاک ہے۔ الحمدللہ اگر اخلاقی طور پر راست باز لوگوں کا گلدستہ ہے تو وہ صرف جماعت اسلامی کا ہے۔
لیکن بدقسمتی سے سندھ کے مخصوص گم راہ عناصر نے جماعت کو نہ پہچانا اور نہ ہی ان کی تعریف کی۔ ہم نے اللہ واحد کی عدالت میں اپنا مقدمہ بھی دائر کیا ہے کہ اے ربّ ہم ان لوگوں کی خدمت میں مصروف ہیں، ان کو ظلم سے نجات دلانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور بدلے میں یہ لوگ ہماری توہین اور تذلیل کرتے ہیں بلا وجہ۔ اور جرم کا۔ میرا مطلب ہے کہ جماعت اسلامی کی شاندار ہمہ گیر مثبت اور عظیم قابل ِ رشک سر گرمیوں کو دیکھ کر تو تمام جماعتوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ہمارے لوگوں کی سوچ ذہانت پر، صبر و تحمل پر انہیں سراہا جانا چاہیے۔ لیکن افسوس صد افسوس جماعت اسلامی کے خلاف بلا جواز من گھڑت الزامات لگانے والوں کی سطحی سوچ اور بالکل بے معنی شکایتوں پر۔
اصل توہین انسانیت جو ہمارے صوبے میں آئے دن کی جارہی ہے۔ اس کی انہیں مطلق کوئی پروا ہی نہیں ہے سندھ میں آئے روز لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے اور خواتین کی توہین کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں شکارپور میں ایک معصوم دلہا سمیت کئی بے گناہ افراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔ کیا یہ انسانیت کی توہین نہیں؟ کیا گدھے کے گلے پر نمبر پلیٹ کا سننا انسانیت سے زیادہ توہین ہے؟ کیا ہر روز جن معصوم خواتین کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے؟ یہ توہین انسانیت نہیں ہے؟ اور کیا یہ انسانیت کی کم توہین ہے کہ معصوم بچے بھوک اور بیماری سے مر جائیں؟ کیا یہ انسانیت کی توہین نہیں ہے؟ اس پر علامہ محمد راشد صاحب سومرو، مشتاق سرکی، امتیاز چانڈیو وغیرہ اور ہمارے دیگر ناقدین اور بزعم خود مفکرین اور ادیب خاموش ہیں کیوں چپ ہیں؟
بہتر ہوتا کہ وہ سوشل میڈیا ڈاکٹر اپنے وزیروں کے گلے میں جوتے ڈالتے، انہیں گدھوں پر چڑھا دیتے اور شکار پور کی ناانصافی، ناانصافی، بے حسی، حکمرانوں کی ناکام کرپشن کے خلاف تصاویر فیس بک پر شیئر کرتے۔ وہ اپنا حق اور فرض ادا کرتے، پھر ہمیں سلام کرتے، لیکن یہ یہاں کیوں کریں گے؟ ان کے ذاتی مفادات ہیں، اور پجاری، جماعت اسلامی کے رہنما، شریف، صابر اور معاف کرنے والے ہیں۔ پھر قرآن کے معصوم حافظ کی بار بار توہین کی جاتی ہے۔ یہ ہیں ہماری قوم کے کمزور حالات، جو ملک کے ہمدردوں، خادموں، ملک کو تباہ کرنے والوں کی توہین کر رہے ہیں۔ جو سندھ کو کھنڈرات اور گڑھوں میں بدل رہے ہیں، اے میرے خدا، اے میرے خدا، اے خود ساختہ دانشور دوستو۔ معذرت اور احترام کے ساتھ۔ لیکن جو سچ ہے وہ اوپر میں نے بے کم وکاست اپنی طرف سے بیان کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے خلاف انسانیت کی سے پاک ہے کی توہین رہے ہیں
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک