سہ ماہی شرح نمو میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
2026کی پہلی صبح کی کرنوں نے پاکستان کے افق کو چھوا تو فضا میں صرف شبنم کی خنکی نہیں تھی بلکہ اعداد و شمارکی وہ خوشبو تھی جو کہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی وہ رپورٹ بکھیر رہی تھی جس کا اجرا حال ہی میں ہوا ہے اور یہ ایک ایسی کہانی نظر آئی جس میں معیشت کے شکست و ریخت کے سائے میں امید پروان چڑھتی نظر آرہی تھی۔
ایسا معلوم دے رہا تھا کہ وہ کارخانے جو پچھلے سال سکتے کے عالم میں سسک سسک کر کہہ رہے تھے کہ میری شرح نمو محض 0.
اس دوران زراعت کی مجموعی شرح افزائش 2.98 فی صد رہی جسے میں بڑی کامیابی سے تعبیر کر سکتا ہوں،کیونکہ اس میں اگر اگست اور ستمبر کی وہ ستم گریاں مدنظر رکھیں جو کہ اس نے پنجاب و سندھ کے مختلف اضلاع میں ڈھائے کیونکہ بھارت نے جیسے ہی اپنے زور آور ڈیموں کے اسپلزکھولے، اس کی بے رحم موجوں نے زمینوں کی فصلیں گرا دی تھیں، ایسے عالم میں 3 فی صد کی ترقی عین انھی مہینوں میں غنیمت ہے۔
رپورٹ بتا رہی ہے کہ فی کس آمدنی 18 سو ڈالر تک جا پہنچی ہے، لیکن اس میں بڑا حصہ پھر انھی کو چلا جاتا ہے جو دولت کی تقسیم میں اشرافیہ کا ساتھ دیتی ہے اور ملک کی غریب اکثریت منہ تکتی رہ جاتی ہے۔ اس کے باوجود جہاں کئی اعداد و شمار حوصلہ افزا ہوں صنعتی پہیوں کی گردش میں اضافہ، مویشیوں کی افزائش اور زرعی ترقی کی مثبت شرح افزائش اور کئی اعداد مل کر ایسی شرح نمو ترتیب دیتے ہیں جو گزشتہ سال کے شرح نمو 1.56 فی صد سے دگنے سے بھی زیادہ یعنی 3 ماہ کی مجموعی شرح نمو (GDP) 3.71 فی صد حاصل ہوئی۔ پہلے کے مقابلے میں کافی حوصلہ افزا ہے۔ ان اعداد و شمار سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ صنعت کے ساتھ زراعت و لائیو اسٹاک وہ شعبہ ہے جسے بڑھانے کے اقدامات اٹھائے جائیں تو کسانوں کے ہاتھ بھی بہت کچھ لگنے والا ہے،کیونکہ پنجاب و سندھ کی مٹی تو زرخیز ہے لیکن اس مٹی سے جڑے کسان کا نصیب اکثر بنجر ہی رہ جاتا ہے۔
نظام کی بے حسی کے باعث کسان کی جھولی اکثر خالی رہ جاتی ہے لیکن شاید پنجاب کے کھیتوں سے اٹھتی ہوئی امید کی اک نئی لہر کچھ کچھ واضح نظر آنے لگی ہے، کیونکہ پنجاب کے کسانوں کو اپنے کھیتوں میں نواز شریف کسان کارڈ مل رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پلاسٹک کا یہ ٹکڑا کسان کو آڑھتی کے چنگل سے نکال کر کسانوں کے گلے شکوے دھو ڈالے گا۔ وہ کسان جو کبھی علی الصبح اپنے بیلوں کے گلے میں گھنٹی باندھتا تھا، پھر اس کی گھنٹی کی مترنم آواز کے ساتھ ساتھ اپنے کھیتوں تک چلا جاتا تھا اب وہ ٹریکٹر چلا کر بڑی شان بان کے ساتھ اپنے کھیت تک پہنچے گا۔ اب اس کی بھرپور کوشش ہوگی کہ فی ایکڑ پیداوار، پڑوس میں واقع دھرتی کے برابر سے بھی آگے لے کر جائے اور وہ جلد ہی اس میں کامیاب ہو جائے گا کیونکہ فی ایکڑ پیداوار میں صنعتی ملکوں سے مقابلہ کرنے کا ہتھیار اس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پنجاب کے کسان کو بجلی کے بھاری بھرکم بلوں سے نجات دلانے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، یعنی سولرائزیشن آف ٹیوب ویلز کا منصوبہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ اس سے زراعت کی لاگت کم ہوگی، سارا منافع جوکہ بجلی کے بل کھینچ کر لے جاتے تھے اب اس سے خلاصی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسانوں کو کپاس کی کم پیداوار نے اداس کر رکھا ہے، لہٰذا پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے ان کی اداسی کو دور کرنے کے لیے بیجوں اورکھادوں کی بلاتعطل فراہمی پر توجہ مرکوز کر دی ہے دیگر صوبوں کو بھی جلد ازجلد انقلابی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں زراعت پر توجہ مرکوز کی جائے اور اس شعبے کو اولین ترجیح دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہاں کی فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ ملکوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔ زراعت دوست،کسان دوست، اقدامات کو پورے پاکستان تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
پورے پاکستان کے لیے تمام صوبوں کے ساتھ مل کر ہر صوبائی حکومت کے تعاون سے اور وفاقی حکومت کی بھرپور امداد سے کسانوں کے لیے ترجیحی اقدامات کا سلسلہ چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ملک کی خوشحالی کی داستان کھیتوں میں بیٹھ کر سنائی جائے گی۔ کیونکہ جب ملک کے کسانوں کے یہاں خوشحالی آتی ہے تو صنعتیں بھی اپنا پہیہ تیزکر لیتی ہیں۔ معاشی ترقی کا سر فخر سے مزید بلند ہو جاتا ہے اور شرح نمو کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی منزل آسان ہو جاتی ہے۔ پیداوار میں اضافہ مہنگائی کو کم کرنے کا باعث بن کر غریبوں کی آمدن میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کسانوں کے کے ساتھ جاتا ہے
پڑھیں:
ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
ملک بھر میں مون سون کا سلسلہ برقرار ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا۔
پیش گوئی کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے۔ خیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
Hours of torrential rain have triggered severe flooding in Lahore, submerging thousands of homes and affecting millions in Pakistan’s second-largest city. The extreme monsoon weather has caused widespread damage, according to emergency services. Residents say it is the worst… pic.twitter.com/IYCbDSEg9Y
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) July 22, 2026
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے۔ سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے جبکہ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر میں سیلابی ریلوں سے 6 افراد جاں بحق، ریسکیو 1122 کا بڑا آپریشن مکمل
ادھر قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے بھی مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ تیز بارش، آندھی یا گرج چمک کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
این ڈی ایم اے بارش پاکستان سیلاب محکمہ موسمیات