جسٹس منصور کو 16 کروڑ اور جسٹس اطہر کو 15 کروڑ پنشن مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد مستعفی ہونے پر بالترتیب 16 کروڑ 10 لاکھ روپے اور 15 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زاید کمیوٹڈ پنشن حاصل کی ہے، جبکہ دونوں کو ماہانہ پنشن کے طور پر بالترتیب 11 لاکھ روپے اور 12 لاکھ روپے سے زاید رقم مل رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ماہانہ پنشن کے طور پر بالترتیب11 لاکھ روپے اور 12 لاکھ روپے سے زاید رقم مل رہی ہے، وزارت قانون نے ہائوس رینٹ ساڑھے3 لاکھ، سپیرئیر جوڈیشل الائونس11لاکھ سے زاید کردیا تھا، جسٹس منصور نے 16 سال ، جسٹس اطہر نے 11 سال سے زائد ملازمت کی ، 27 ویں ترمیم پر مستعفی ہوئے، دونوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میڈیکل، رہائش ودیگر سہولیات اور بیگمات کے لیے مراعات حاصل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔