سپریم کورٹ سے استعفیٰ دینے والے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو استعفے کے بعد بھاری مالی مراعات اور کمیوٹڈ پنشن کی ادائیگیاں سامنے آ گئی ہیں۔ دونوں ریٹائرڈ ججز کو کروڑوں روپے کی یکمشت کمیوٹڈ پنشن کے ساتھ ساتھ ماہانہ لاکھوں روپے پنشن کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں، جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی متعدد سرکاری سہولیات برقرار رکھی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صدر مملکت نے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کرلیے

ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے استعفیٰ کے بعد 16 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 15 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کی کمیوٹڈ پنشن حاصل کی۔ اس کے علاوہ دونوں ریٹائرڈ ججز کو ماہانہ پنشن بھی دی جا رہی ہے، جس میں جسٹس منصور علی شاہ کو 11 لاکھ روپے سے زائد جبکہ جسٹس اطہر من اللہ کو 12 لاکھ روپے سے زائد ماہانہ پنشن مل رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت قانون کی جانب سے ہاؤس رینٹ ساڑھے 3 لاکھ روپے جبکہ سپیریئر جوڈیشل الاؤنس 11 لاکھ روپے سے زائد مقرر کیا گیا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 16 سال جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 11 سال سے زائد عدالتی خدمات انجام دیں۔ دونوں ججز نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا۔

ذرائع کے مطابق دونوں ججز کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میڈیکل سہولیات، رہائش اور دیگر مراعات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ ان کی بیگمات کو بھی مخصوص مراعات حاصل ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اپنے استعفے صدر مملکت کو ارسال کیے تھے، جن پر صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ ترمیم آئین کا حصہ بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کا سیاسی ایجنڈا تھا، ہمارا مؤقف درست ثابت ہوا، رانا ثنااللہ

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں مؤقف اختیار کیا کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ اور عدلیہ کی آزادی پر کاری ضرب لگائی گئی ہے اور یہ اقدام آئین پر حملے کے مترادف ہے۔ انہوں نے لکھا کہ اس ترمیم کے نتیجے میں انصاف عام آدمی سے دور ہو گیا اور عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم نے اس آئین کو ختم کر دیا ہے جس کا انہوں نے حلف اٹھایا تھا، اور اب آئین محض ایک سایہ بن کر رہ گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ خاموشی کے ذریعے اپنے حلف سے غداری نہیں کر سکتے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا مقصد سپریم کورٹ پر مقدمات کا بوجھ کم کرنا اور نظام انصاف کو مؤثر بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ جسٹس اطہر من اللہ نے جسٹس منصور علی شاہ لاکھ روپے سے زائد سپریم کورٹ کے بعد

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا