جسٹس منصور کو 16 کروڑ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ کو 15 کروڑ پنشن کی مد میں مل گئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد مستعفی ہونے پر بالترتیب 16 کروڑ 10 لاکھ روپے اور 15 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کمیوٹڈ پنشن حاصل کر لی۔
ذرائع کے مطابق دونوں ریٹائرڈ ججز کو ماہانہ پنشن کے طور پر بالترتیب 11 لاکھ روپے اور 12 لاکھ روپے سے زائد رقم مل رہی ہے۔وزارت قانون نے ہاؤس رینٹ ساڑھے 3لاکھ، سپیریئر جوڈیشل الاؤنس 11لاکھ سے زائد کردیا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے 16 سال جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 11 سال سے زائد ملازمت کی، دونوں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد مستعفی ہوئے، دونوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میڈیکل، رہائش ودیگر سہولیات اور بیگمات کیلئے مراعات حاصل ہیں۔
ندا یاسر کا نئے سال پر غیر معمولی لباس سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا
معتبر ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق دونوں سابق جج صاحبان کی ماہانہ پنشن کی تفصیل کچھ یوں ہے:جسٹس اطہر من اللہ کی مجموعی ماہانہ پنشن 12 لاکھ 20 ہزار 381 روپے ہے، جس میں ڈرائیور پنشن 91 ہزار 258 روپے، خصوصی اضافی پنشن 84 ہزار 885 روپے اور میڈیکل الاؤنس الاؤنسز شامل ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ کی مجموعی ماہانہ پنشن 11 لاکھ 35 ہزار 496 روپے ہے، جس میں ڈرائیور پنشن 91 ہزار 258 روپے اور میڈیکل الاؤنس 45,799 روپے اور 11,450 روپے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ’’سپریم کورٹ ججز آرڈر 1997ء‘‘کے تحت دونوں سابق جج صاحبان کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اضافی مراعات دی گئی ہیں، جن میں میڈیکل، رہائش کی سہولت، مکمل اسٹاف، یوٹیلٹی بلز کی حد، سرکاری گاڑی و ایندھن، سکیورٹی و استثنیٰ، پرچم پروٹوکول اور بیگمات کے لیے مراعات شامل ہیں۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں وفاقی حکومت نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔
صدر مملکت نے سی ڈی اے ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی
وزارتِ قانون و انصاف کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ کے ججوں کا ہاؤس رینٹ 68 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا، جبکہ سپریم کورٹ ججوں کا ’’سپیریئر جوڈیشل الاؤنس‘‘ 4 لاکھ 28 ہزار 40 روپے سے بڑھا کر 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے کر دیا گیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے مجموعی طور پر 16 سال، ایک مہینہ اور 26 دن بطور جج خدمات انجام دیں جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 11 سال، چار مہینے اور 24 دن ملازمت کی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: جسٹس منصور علی شاہ ماہانہ پنشن لاکھ روپے روپے اور الاو نس روپے سے من اللہ کے بعد
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔