امریکا وینزویلا کے آئل ٹینکر کا تعاقب فوری بند کرے،روس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو(ویب ڈیسک) روس وینزویلا جانے والے آئل ٹینکر کو بچانے کے لیے کھل کر میدان میں آگیا ہے اور امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ بحری جہاز کا تعاقب ترک کر دے۔
روس نے سفارتی سطح پر امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ بحر اوقیانوس میں موجود وینزویلا کے آئل ٹینکر کا مسلسل پیچھا کرنا بند کرے، یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے اور صورتحال کو مزید کشیدہ بنا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وینزویلا کا آئل ٹینکر جہاز بیلا ون اس وقت بحر اوقیانوس میں موجود ہے اور امریکی کوسٹ گارڈ کی گرفت سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم امریکی افواج گزشتہ تقریباً 2 ہفتے سے اس جہاز کا مسلسل تعاقب کر رہی ہیں، امریکا کا مو¿قف ہے کہ مذکورہ ٹینکر تیل کی اسمگلنگ میں ملوث ہے ۔ دوسری جانب روس نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت سے باز رہے اور جہاز کے تعاقب سے فوری طور پر دستبردار ہو جائے، امریکا کی جانب سے اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔