100 ارب سپر کمپیوٹرز کے برابر انسانی ذہن کے ارتقا، استعمال اور مغالطوں کا احوال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
کہا جاتا ہے کہ اگر انسان اپنا دماغ 50 فی صد یا اس سے زیادہ استعمال کر لے تو کائنات کے سارے راز اس پر منکشف ہو جائیں۔ مگر ایسا نہیں ہے اور یہ بھی درست نہیں ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی میں ذہن کی صلاحیتوں کا صرف 10 فی صد ہی استعمال کر پاتا ہے۔
ریسرچ بتاتی ہے کہ ہر انسان روزانہ ہی اپنے دماغ کے تمام حصّے استعمال کرتا ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ امریکا جیسے ملک میں 65 فی صد لوگ اس مغالطے پریقین رکھتے آئے ہیں کہ دنیا کی تمام تر ترقی اور ارتقا، انسانی دماغ کے صرف 10 فیصد استعمال کے مرہون منّت ہوئی ہے!۔
یہ مغالطہ کہ انسان اپنی پوری زندگی میں ذہن کی صلاحیتوں کا بہت کم یا صرف 10 فی صد ہی استعمال کر پاتا ہے، اس کا پس منظر بہت دلچسپ ہے۔
یہ بات دراصل ریاضی دان ولیم جیمز سیڈس نے پھیلائی تھی جو1898ء میں پیدا ہوا۔ وہ ایسا نابغہ تھا، جسے صرف 11 سال کی عمر میں ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ دیاگیا تھا۔ کہا جا تا ہے کہ اسے 40 زبانوں پر مہارت حاصل تھی اور اس نے کائنات کے قوانین کے حوالے سے بہترین کام بھی کیا۔ اس کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کا آئی کیو ٹیسٹ میں اسکور 250سے اوپر تھا۔ ولیم جیمز سیڈس کی ذہانت کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ بہت سے معاملات میں اس حوالے سے مبالغہ آرائی کی گئی تھی۔
جیمز سیڈس کی اس ہوائی بات کو بعد میں مختلف مصنوعات کی تشہیر کرنے والی کمپنیوں اور میڈیا نے مسلسل آگے بڑھایا۔ اس زمانے میں ایسے دعووں والے اشتہار سامنے آنے لگے کہ اگر آپ فلاں کمپنی کی فلاں چیز، دوا یا پروڈکٹ استعمال کریں گے تو آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ اپنے دماغ سے زیادہ کام لے سکیں گے اور یہاں تک کہ آپ جینیئس بن کر عام انسانوں کی طرح ،دس فیصد کے بجائے اپنا دماغ 20،30 یا 40 فیصد بھی کام میں لے آئیں گے اور پھر دنیا اور کائنات کے ان دیکھے اسرار آپ پر منکشف ہونے لگیں گے!۔
غلط تشہیر کا یہ سلسلہ یہاں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہالی ووڈ میں ایسی موویز بھی بننے لگیں، جن میں دکھایا گیا کہ کسی خاص دوا کے حادثاتی استعمال یا کسی واقعے کے پیش آنے سے فلم کے کسی کردار کا دماغ بہت تیز چلنے لگ گیا اور وہ کردار مافوق الفطرت کارنامے انجام دینے لگ گیا۔ اس کے علاوہ ایسے تربیتی ادارے کھلنے لگے جو اپنے تیارکردہ کورس یا ورزشی مشقیں کروا کے دماغ کے 50 تک استعمال کی ’گارنٹی‘دینے لگے تھے!۔
مگر اب کئی مغربی سائنس دان اس نظریے کے تردید کرچکے ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی میں کلینیکل نیورو سائیکالوجی کے سائنسدانو ں کے مطابق غلط طور پر یہ خیال عام ہوچکا ہے کہ ہم اپنے دماغ کا صرف 5 یا 10 فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں اور عام انسانوں کی 90 فیصد دماغی صلاحیتیں پوشیدہ ہی رہتی ہیں۔
ماہرین نے دماغ کے حصوں کا پتا چلانے کے لیے فنکشنل میگنیٹک ریزونینس امیجنگ (fMRI) تکنیک استعمال کرتے ہیں جو بتاتی ہے کہ انسان جب کچھ سوچتاہے یا حرکت کرتا ہے تو دماغ کے کون کون سے حصے متحرک ہوتے ہیں؟۔ اس تجربے سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ انسان چاہے کتنی ہی ہلکی یا سخت حرکت کرے یافقط سوچتا ہی رہے، تب بھی اس کے دماغ کا ہر حصہ متحرک رہتا ہے یعنی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ نیند کے دوران بھی ہمارا پورا دماغ مسلسل کام کرتا ہے۔ وہ جسم کے مختلف افعال جیساکہ نظامِ تنفس اور دل کی دھڑکن وغیرہ کو کنٹرول کرتارہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ انسانی دماغ دنیا کے تیز تر ین کمپیوٹر سے کتنا تیز ہے؟دنیا میں بہت اعلیٰ اور تیز کمپیوٹر بنائے جا چکے ہیں لیکن قدرت نے جو کمپیوٹر، ہمارے ذہن کی صورت میں بناکر ہمیں بخشا ہے، وہ دنیا کے کسی بھی تیز ترین کمپیوٹر سے بھی تیز ہے۔ جاپان اور جرمنی کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر اور الگ الگ اس پر تجربات اور مشاہدات کیے ہیں۔ انہوں نے جاپان کے سپر کمپیوٹر K computerکے 82 ہزار پروسیسرز کا استعمال کرتے ہوئے، انسانی دماغ کے صرف ایک فیصد حصے کا ماڈل بناکر کوشش کی کہ ایک سیکنڈ کے لیے دماغ کی کارکردگی کا جائزہ لیاجا سکے۔ انہوں نے اعصابی خلیوں سے ملتے جلتے 1.
انسانی دماغ کے بارے میں جاننے کے لیے سائنس دان صدیوں ریسرچ کرتے رہے ہیں۔ پچھلی صدی کے وسط میں جاکر دماغ کے خلیوں کا مناسب ادراک ہوسکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے سائنسدانوں کو اس قابل بنایا کہ وہ دماغ کے اندر تک رسائی حاصل کرکے اس کے ارتعاشات اور حرکات کا صحیح طرح معائنہ کرسکیں۔ لیکن اب بھی دماغ کے کچھ ایسے پیچیدہ پہلو ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انسانی دماغ قدرت کا ایک حیرت ناک عجوبہ ہے۔
کچھ عرصہ قبلfMRI کی تیکنیک کے ذریعے کی جانی والی ایک ریسرچ سے پتا چلا تھا کہ لندن کے بعض ٹیکسی ڈرائیوروں کے ہپوکیمپس کا پچھلا حصہ نارمل سے بڑا ہوگیا اور سامنے والا حصّہ چھوٹا ہوگیا۔ اس سسٹم کا یہ حصہ مختلف امور مثلاً: آموزش، حافظے اور مکانی تعلقات کی تنظیم ِنو سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سے یہ مطلب لیا گیا کہ شہر کے تفصیلی نقشے کو یاد کرنے کی کوشش میں دماغ کے اس متعلقہ حصّے نے اردگرد کے خلیوں کو بھی اپنی ٹیم میں بھرتی کرلیا تاکہ اپنی کارکردگی میں اضافہ کرسکے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دماغ کی کچھ ساخت، انسان کے ہر عمل اور ہر ادراک کے ساتھ بدل بھی جاتی ہے۔
کیا انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں سے غیر معمولی کارنامے سرانجام سکتا ہے؟کئی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بات غلط ہے کہ جینیئس بنتے نہیں، پیدا ہوتے ہیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ کوئی شخص پیدائشی طور پر جینیئس نہیں ہوتا بلکہ وہ’بنتا‘ ہے اور اسے جینیئس بنانے میں حادثات بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آئن اسٹائن، آئزک نیوٹن، ونسٹن چرچل، بل گیٹس جیسے کئی بڑے آدمیوں کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ لوگ بچپن میں پڑھاکو، ہوشیار یا ذہین نہیں مانے جاتے تھے بلکہ انہیں نکھٹو، نالائق، ضدی، کند ذہن، شریر اور خبطی کہا جاتا تھا۔ ان کے بچپن میں ان کی معمولی سمجھ بوجھ دیکھ کر ہر شخص کہہ دیتا تھا کہ یہ بچہ آگے چل کر زندگی میں کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں کرسکے گا۔ لیکن عمر کی پختگی کے ساتھ ساتھ ان ہی’نالائقوں‘ کے اندر چھپی ہوئی اعلیٰ ذہانت اور روشن دماغ کی صلاحیتوں کا ظہور ہونے لگا تھا اور دوسرے عقل مند لوگ ان کی تخلیقی باتوں اور بڑے کاموں پر حیرت کا اظہار کرنے لگے تھے۔ بات صرف ذہنی صلاحیتوں کے استعمال کی ہے۔ جینیئس افراد اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہیں جبکہ عام آدمی اپنی صلاحیتوں کا عشر عشیر بھی استعمال نہیں کرتا۔
ہمارے مسلم معاشرے میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ حضرت اما م جعفرصادق ان نادرِ روزگار افراد میں شمار کیے جاتے ہیں، جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کو علم پھیلانے میں صرف کیا۔ انہوں نے علم الحدیث، علم الکلام، فلسفہ، کیمیا، طبیعیات، ہیئت، منطق، طب، فلکیات، بائیولوجی، ما بعد الطبیعیات اوردیگر علوم پر کئی کتابیں تحریرکیں۔
امام بخاری نے دور طالب عمری ہی میں مشہور عالموں کی کئی کتابیں اور 15 ہزار سے زائد احادیث حفظ کرلیں تھیں۔ علم حدیث کے شوق میں انہوں نے اس دورمیں شام، مصر اور جزیرہ نما عرب کا 2 مرتبہ اور چارمرتبہ بصرہ کا سفر کیا۔ 6 سال مکہ مکرمہ میں گزارے۔ احادیث کے علاوہ انہوں نے تاریخ، تفسیر اورفقہ پر بھی کئی کئی جلدوں میں کتابیں تصنیف کیں۔
بوعلی سینا کا شمار عظیم سائنسدانوں میں ہوتاہے۔ وہ 17 برس کی عمر تک حصول تعلیم میں مصروف رہے تھے۔ ایک سال بعد مزید علوم حاصل کرنے کے لیے انہوں نے خوارزم سے عراق اور ایران کے کئی سفر کیے۔ اس کے بعد انہوں نے فلسفہ، منطق، ریاضی، فزکس، کیمیا، ارضیات اور طب کے موضوعات پر کئی ضخیم کتب لکھیں جو آج بھی انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتی ہیں۔
امام غزالی نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ بیس برس کی عمر میں شروع کیا تھا۔ 10،11 برس صحرانوردی میں گزارے اور 25سال کی مدت میں وہ69 کتابیں لکھ چکے تھے، جن میں سے اکثر کئی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں۔
کہتے ہیں کہ لتھوانیا کا ایک عالم ایلیا بن سلیمان ) Solomon (Elijah Ben انتہائی غیر معمولی حافظہ رکھتاتھا۔ وہ جس کتاب کو ایک بار پڑھ لیتا، وہ اسے یاد ہوجاتی تھی۔ ایلیا کے ذہن میں 2 ہزار کتابیں محفوظ تھیں اوران کتابوں کا ایک ایک لفظ اسے ازبر تھا۔ لوگ اسے آزمانے کے لیے جہاں سے بھی چاہتے، اس سے کوئی بھی پیراگراف سن سکتے تھے۔
مونالیزاوالا مصور لیونارڈو ڈاونچی ایک عظیم مصور ہی نہیں، سائنسدان بھی تھا۔ کم از کم 150 ایجادات لیونارڈو ڈاونچی سے منسوب ہیں جب کہ نباتات، علم الابدان، فن تعمیر، انجینیئرنگ، نقشہ نویسی، ارضیات، فلکیات، موسیقی، فلسفہ، ریاضی، اسلحہ سازی، ہوابازی، موسیقی اور نہ جانے کن کن شعبوں میں اس کا یادگار کام موجودہے۔
امریکی ماہرِ نفسیات ہارورڈ گارڈز نے اپنی ایک ریسرچ میں بتایا ہے کہ انسان صرف ایک قسم کی ذہانت نہیں رکھتا بلکہ مختلف قسم کی ذہانتوں کا مرکب ہے۔ انہوں نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ انسان میں پیدائشی طور پر نو قسم کی ذہانتیں پائی جاتی ہیں۔ اس میں ہر وقت کچھ نیاسیکھنے کی صلاحیت قدرتی طور پر رکھی گئی ہے۔ وہ سیکھ کر ان مہارتوں کو پالش کر سکتا ہے۔
سائیں جی ایم سید کے حافظے کا کمالہماری زندگی میں سائیں جی ایم سیّد کی مثال موجود ہے۔ ہم ایک مرتبہ ان کے قصبے ’سن‘ میں ان کی بیٹھک میں بیٹھے تھے اور سندھ کی تاریخ پر ان کی باتیں سن رہے تھے۔بولتے بولتے جب انہیں کوئی حوالہ دینے کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے اپنے پیچھے کھڑے خاص خدمتگار کی طرف رُخ کر کے اسے کہا:
’ماستر! میری اسٹڈی کے بیچ والے کمرے میں جاؤ۔ الٹے ہاتھ سے گنتے جاؤ، چوتھے نمبر والی الماری میں اوپر سے دوسری قطار میں سیدھے ہاتھ پر جو 7ویں کتاب رکھی ہوگی، وہ فلاں پرانے سندھی رائٹر کی فلاں نام والی کتاب ہوگی۔ وہ لے آؤ‘۔
ماستر (ماسٹر) غلام قادر پر روزانہ ایسی بپتا گذرتی تھی، اس نے حیرت سے کھلے ہمارے منہ کو دیکھا اور مسکراتا ہوا اندر چلاگیا اورسائیں کی بتائی ہوئی مطلوبہ کتاب لے آیا۔
مگرابھی مزید حیرت بھی ہماری منتظر تھی، سو سائیں نے پھر ماستر کو حکم دیا:
’اب اس کتاب کا صفحہ 160 کھولو اور اس کا تیسرا پیراگراف پڑھ کر سناؤ‘۔
جب ماستر غلام قادر پڑھتا ہے تو یہ عبارت وہی ہوتی ہے، جس کی بات ابھی سائیں کر رہے تھے۔
کیا ذہن تھا!کیا حافظہ تھا!۔ہم نے جب بجا طور پر حیرت کا اظہار کیا تو مشفق مسکراہٹ کے ساتھ بولے:
’بابا! یہ صرف قدرت کی عطا نہیں، اپنی مشق کا کمال بھی ہے۔ تم لوگ بھی ذہن کو اتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تیز کر سکتے ہو۔۔۔ کوشش تو کرو‘۔
بہرحال قدرت نے انسانوں کو یہ صلاحیت عطا کی ہے، جسے ہم مشقوں، ورزشوں اور خصوصی خوراک سے بہتر یا تھوڑا سا تیز کر سکتے ہیں، واللہ عالم بالصواب۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امام غزالی جی ایم سید جی ایم سید کا قوی حافظہ دماغ کا استعمال سپر کمپیوٹرز جیسا انسانی دماغ کہ انسانی دماغ استعمال کرتے صلاحیتوں کا سپر کمپیوٹر ہے کہ انسان استعمال کر زندگی میں کرتے ہیں انہوں نے کے ساتھ دماغ کی کرتا ہے دماغ کے جی ایم نے لگے کے لیے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔