نیا سال ملک میں مذہبی ہم آہنگی، امن اور باہمی احترام کو مزید فروغ دے گا، رمیش سنگھ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
وزیر اقلیتی امور پنجاب کا کہنا ہے کہ مذہبی اقلیتی برادریوں کی سماجی اور معاشی بہتری حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ نئے سال میں بھی مذہبی اقلیتوں کی ترقی، مذہبی آزادی اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کیلئے حکومتی اقدامات کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا تاکہ ہر شہری خود کو محفوظ اور بااختیار محسوس کرے۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور پنجاب سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے قوم کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیا سال ملک میں مذہبی ہم آہنگی، امن اور باہمی احترام کو مزید فروغ دے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبے میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق، تحفظ اور فلاح و بہبود کیلئے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں منیارٹی کارڈ جیسے منصوبے نمایاں ہیں۔ رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا تھا کہ مذہبی اقلیتی برادریوں کی سماجی اور معاشی بہتری حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ نئے سال میں بھی مذہبی اقلیتوں کی ترقی، مذہبی آزادی اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کیلئے حکومتی اقدامات کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا تاکہ ہر شہری خود کو محفوظ اور بااختیار محسوس کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔