امریکا میں داخلے پر پابندی، مزید 20 ممالک اور ادارے شکار بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
امریکا نے مزید 20 ممالک اور علاقوں کے شہریوں پر سفری پابندیاں نافذ کر دی ہیں، جو جمعرات سے باضابطہ طور پر لاگو ہو گئیں۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 16 دسمبر کو جاری کردہ صدارتی حکم کے تحت کیا گیا، جس کے بعد سفری پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک اور اداروں کی مجموعی تعداد 39 ہو گئی ہے۔
قومی سلامتی اور عوامی تحفظ بنیادی وجہوائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پابندیاں ان ممالک پر عائد کی گئی ہیں جن کے اسکریننگ اور ویٹنگ (جانچ پڑتال) کے نظام کو ناکافی قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث امریکا کو قومی سلامتی اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات لاحق ہیں۔
امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ ایسے کمزور نظام امریکا کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
امریکی کسٹمز اور امیگریشن سروسز (USCIS) نے کہا ہے کہ امریکا نے ایسے مزید ممالک کی نشاندہی کی ہے جو اپنے شہریوں یا رہائشیوں کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرنے یا امریکا کے ساتھ ضروری معلومات کے تبادلے میں ناکام رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکا کا سفری پابندیوں کی فہرست مزید 30 سے زائد ممالک تک بڑھانے کا منصوبہ
بیان میں کہا گیا کہ امریکی حکومت کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ملک میں داخل ہونے والے غیر ملکی افراد امریکا کے شہریوں، اداروں، حکومت، ثقافت یا آئینی اصولوں کے لیے خطرہ نہ ہوں۔
دہشتگردی یا انتہا پسندی کی حمایت پر مکمل پابندیUSCIS کے مطابق ایسے غیر ملکیوں کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو نامزد غیر ملکی دہشتگرد تنظیموں کی حمایت، مدد یا سہولت کاری میں ملوث ہوں، یا جو کسی بھی صورت قومی سلامتی یا عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں۔
مکمل پابندی والے ہائی رسک ممالکوائٹ ہاؤس کی جانب سے جن 12 ممالک کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے، ان میں افغانستان، میانمار (برما)، چاڈ، جمہوریہ کانگو، استوائی گنی، اریٹریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔
ان ممالک کے شہریوں پر امریکا کے سفر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مزید 5 ممالک، برکینا فاسو، مالی، نائجر، جنوبی سوڈان اور شام کے شہریوں پر بھی مکمل سفری پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ نے مزید 7 ممالک پر مکمل سفری پابندی عائد کر دی، شام بھی شامل
اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ سفری دستاویزات رکھنے والے افراد بھی ان پابندیوں کی زد میں آئیں گے۔
جزوی سے مکمل پابندی میں شامل ہونے والے ممالکلاؤس اور سیرا لیون، جو اس سے قبل جزوی سفری پابندیوں کا شکار تھے، اب مکمل پابندی والے ممالک کی فہرست میں شامل کر لیے گئے ہیں۔
تشدد اور فراڈ کے انکشافات پس منظر میں16 دسمبر کے حکم سے قبل 19 ممالک پر سفری پابندیاں عائد تھیں، تاہم صدر ٹرمپ نے جاری تشدد، بدامنی اور حالیہ فراڈ کے انکشافات کے تناظر میں مزید 19 ممالک اور فلسطینی اتھارٹی کو اس فہرست میں شامل کیا۔
سفری پابندیوں میں محدود استثنیٰحکومتی وضاحت کے مطابق بعض مخصوص افراد کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں سفارتی عملہ اور وہ کھلاڑی شامل ہیں جو اولمپکس، فیفا ورلڈ کپ یا دیگر بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے امریکا کا سفر کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا میں داخلے پر پابندی ڈونلڈ ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا میں داخلے پر پابندی ڈونلڈ ٹرمپ سفری پابندیوں مکمل پابندی سفری پابندی ممالک اور کے شہریوں کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔