برطانیہ کی ویزا پالیسی میں تبدیلی: غیر ملکی شہریوں کیلیے انگریزی زبان کا B2 لیول ضروری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن:برطانیہ نے اپنی ویزا پالیسی میں ایک تاریخی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غیر ملکی شہریوں کے لیے شرائط مزید سخت کر دی گئی ہیں، نئے ضوابط کے مطابق، پیشہ ورانہ اور جاب ویزوں کے لیے درخواست دینے والے افراد کو انگریزی زبان کے B2 لیول پر عبور حاصل کرنا ضروری ہو گا۔ یہ تبدیلی 8 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور درخواست گزاروں کو نہ صرف روزمرہ انگریزی بلکہ پیچیدہ، فنی اور تکنیکی موضوعات پر بھی روانی کے ساتھ بات چیت کرنی ہو گی۔
B2 لیول کی زبان کی مہارت کا تقاضا برطانوی حکام کے مطابق اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ غیر ملکی کارکن مقامی کام کے ماحول سے ہم آہنگ ہو سکیں اور کام کی جگہ پر زبان کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ اس معیار کے تحت درخواست گزار کو پیشہ ورانہ ماحول میں مؤثر رابطہ، تفصیلی دلائل دینے اور پیچیدہ تحریری و زبانی اظہار کی صلاحیت کی ضرورت ہو گی۔
یہ نئی شرط خاص طور پر ترقی پذیر ممالک سے آنے والے افراد کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے،اگرچہ یہ نئی پالیسی پہلی بار ویزا کے لیے درخواست دینے والے افراد پر لاگو ہوگی، پہلے سے موجود ویزا ہولڈرز اور ویزا کی تجدید کرنے والوں کے لیے نرمی یا مرحلہ وار نفاذ کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے، لیکن اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ملک میں آنے والے غیر ملکی ورکروں کو مقامی کام کے ماحول کے لیے بہتر طور پر تیار کرنا اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانا ہے، زبان پر مضبوط گرفت نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی کارکنان کو کام کی جگہ پر مختلف مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، جسے کم کرنا اس پالیسی کا اہم مقصد ہے۔
دوسری جانب امیگریشن ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اس نئی شرط کے سبب بہت سے ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد برطانیہ میں کام کے مواقع سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ان گروپوں کا خیال ہے کہ زبان کی اس سخت شرط کے نتیجے میں غیر ملکی ورکروں کے لیے کام کا ماحول مزید مشکل ہو جائے گا۔
اس پالیسی میں تبدیلی سے متعلق مزید تفصیلات اور اس کے اثرات پر ابھی بھی بحث جاری ہے، اور اس پر آنے والے مہینوں میں مزید واضح صورت حال سامنے آ سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غیر ملکی کے لیے کام کے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔