data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن:برطانیہ نے اپنی ویزا پالیسی میں ایک تاریخی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غیر ملکی شہریوں کے لیے شرائط مزید سخت کر دی گئی ہیں، نئے ضوابط کے مطابق، پیشہ ورانہ اور جاب ویزوں کے لیے درخواست دینے والے افراد کو انگریزی زبان کے B2 لیول پر عبور حاصل کرنا ضروری ہو گا۔ یہ تبدیلی 8 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور درخواست گزاروں کو نہ صرف روزمرہ انگریزی بلکہ پیچیدہ، فنی اور تکنیکی موضوعات پر بھی روانی کے ساتھ بات چیت کرنی ہو گی۔

B2 لیول کی زبان کی مہارت کا تقاضا برطانوی حکام کے مطابق اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ غیر ملکی کارکن مقامی کام کے ماحول سے ہم آہنگ ہو سکیں اور کام کی جگہ پر زبان کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ اس معیار کے تحت درخواست گزار کو پیشہ ورانہ ماحول میں مؤثر رابطہ، تفصیلی دلائل دینے اور پیچیدہ تحریری و زبانی اظہار کی صلاحیت کی ضرورت ہو گی۔

یہ نئی شرط خاص طور پر ترقی پذیر ممالک سے آنے والے افراد کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے،اگرچہ یہ نئی پالیسی پہلی بار ویزا کے لیے درخواست دینے والے افراد پر لاگو ہوگی، پہلے سے موجود ویزا ہولڈرز اور ویزا کی تجدید کرنے والوں کے لیے نرمی یا مرحلہ وار نفاذ کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے، لیکن اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ملک میں آنے والے غیر ملکی ورکروں کو مقامی کام کے ماحول کے لیے بہتر طور پر تیار کرنا اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانا ہے، زبان پر مضبوط گرفت نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی کارکنان کو کام کی جگہ پر مختلف مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، جسے کم کرنا اس پالیسی کا اہم مقصد ہے۔

دوسری جانب امیگریشن ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اس نئی شرط کے سبب بہت سے ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد برطانیہ میں کام کے مواقع سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ان گروپوں کا خیال ہے کہ زبان کی اس سخت شرط کے نتیجے میں غیر ملکی ورکروں کے لیے کام کا ماحول مزید مشکل ہو جائے گا۔

اس پالیسی میں تبدیلی سے متعلق مزید تفصیلات اور اس کے اثرات پر ابھی بھی بحث جاری ہے، اور اس پر آنے والے مہینوں میں مزید واضح صورت حال سامنے آ سکتی ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غیر ملکی کے لیے کام کے

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی