صومالی لینڈ کی بطورایک آزاد ملک شناخت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
حمیداللہ بھٹی
صومالیہ کے امن کو لاحق خطرات کی نوعیت بڑی عجیب اورپیچیدہ ہے، یہاں نہ صر ف کئی مقامی گروہ سرگرم ہیں بلکہ بیرونی عوامل بھی ہیں جن کی ظاہری ترجیحات میں فرق کے باوجود قدرمشترک حکومتی املاک کونقصان پہنچانا اور انسانی جانوں کو تلف کرنا ہے، جس سے امن و امان کی صورتحال دگرگوں اور معیشت ناہموارہے۔ صومالیہ کاایک حصہ صومالی لینڈ ہے ۔یہ مشرقی افریقہ میں واقع ہے۔ اِس کا 176120 مربع کلومیٹر رقبہ ہے ۔یہاں ستاون لاکھ نفوس آباد ہے۔ اکثریتی آبادی مسلمان ہے ۔زبان صومالی اور عربی ہے۔ یہ اٹھارہ مئی 1991 سے خودساختہ آزاد ریاست ہے ،جسے اعلان کرنے کے باوجود2025 تک کسی ملک نے آزاد تسلیم نہیں کیا۔ اِس لیے تین دہائیوں سے عالمی شناخت سے محروم ہے مگر گزشتہ برس کے آخری ایام میں اسرائیل نے اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے اِسے ایک آزاد وخود مختار ملک تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات استوار کرلیے ہیں۔ اِس اسرائیلی فیصلے پر اسلامی دنیا سے شدید ردِ عمل آیا۔ پاکستان سمیت بیس اسلامی ممالک نے صومالیہ کی تقسیم کو قبول کرنے کے فیصلے کی مذمت کی۔ خیر یہ کوئی اچانک ہونے والا اعلان نہیں ۔کیونکہ اسرائیل کی یہاں دلچسپی اوردخل اندازی عشروں پر محیط ہے۔ آج سے پانچ برس قبل 2020 میں جب اسرائیل اور عرب امارت میںمعاہدہ ہواتو صومالی لینڈ کی علیحدگی پسند قیادت نے پُرجوش خیر مقدم کیا ۔اب بھی اسرائیلی وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے کہا ہے کہ صومالی لینڈ کے دارالحکومت ھرجیسا اور تل ابیب کے حکام میں ایک برس سے ملاقاتیں اور روابط ہیں جو ابراہیمی معاہدے کی کڑی ہیں ۔ہم نے مستقبل کے حوالے سے باقاعدہ مشاورت کی اور پھر صومالی لینڈ کو آزاد و خودمختار ملک کی حیثیت سے تسلیم کیاہے۔
اب سوال یہ نہیں رہا کہ اسرائیل نے صومالی لینڈ کو بطور آزادملک کیوں تسلیم کیا اور اِس طرح اُن امریکی کوششوں کوکیوں نقصان پہنچایا ہے جن کا مقصد عرب ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کراناہے؟بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اِس فیصلے سے خطے میں ایک نئی محاذآرائی اور کشیدگی جنم لے گی ؟تواِس کا جواب ہاں کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتا کیونکہ مسلم ممالک کو کمزور اور تقسیم کرنا اسرائیل کی ہمیشہ سے اولین ترجیح رہی ہے اُس کے حالیہ فیصلے سے بھی صومالیہ کی تقسیم یقینی ہوگئی ہے۔ اکتوبر2024 میں ایسی اطلاعات منظرِ عام پر آئی تھیں کہ صومالی لینڈ نے اسرائیل کو فوجی اڈا دینے کی پیشکش کی ہے جس اِسرائیل نے قابلِ عمل پیشکش قرار دیاہے یہاں اڈابناکر اسرائیل بیک وقت حوثیوں کونشانہ بنانے کے ساتھ سعودی عرب اور مصر جیسے طاقتورعرب ممالک کو دبائو میں رکھ سکتاہے۔ مصر چاہتا ہے کہ بحیرہ احمرپر صرف اِس کے ساحلی ممالک کاکنٹرول ہو،اِس مقصد کے لیے وہ موغادیشوکی کوششوں کی اعلانیہ حمایت کرتا ہے جو اسرائیل کوناپسندہیں۔ اگر صومالی لینڈ کی پیشکش کے مطابق اسرائیل اِس خطے میں فوجی اڈا بنالیتا ہے تو یمن کی طرف سے اسرائیلی تجارت کے لیے بحیرہ احمر بندکرنے سے اُسے جس تجارتی دبائو کا سامنا سے اُس سے نکل آئے گا اور ایشیا سے مشرقی افریقہ تک بلا روک ٹوک تجارت جاری رکھنے کے قابل ہو جائے گا۔ مزیدیہ کہ نہر سوئز پر کنٹرول سے مصرکو بلیک میل کرنے کی اضافی سہولت بھی حاصل ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز سے سعودیہ ،عمان ،عرب امارات سمیت یمن کی برآامدات کو جب چاہے گا روکنے پر قادر ہوجائے گا ،اسی بناپرعالمی امورپر دسترس رکھنے والے اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ صومالی لینڈ دراصل خطے میں اسرائیل کی ایسی نئی کالونی ثابت ہوگی جہاں سے عرب ممالک کو گھیرنے کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا ۔
پاکستان،ایران،ترکی اوآئی سی سمیت کئی عرب ممالک صومالی لینڈ کوآزاد ملک تسلیم کرنے کے اسرائیلی اقدام کوامن و سلامتی کے لیے خطرہ قراردیتے اور صومالیہ کی وحدت کو یقینی بنانے کامطالبہ کررہے ہیں ۔صاف عیاں ہے کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ ایسا شرپسندانہ ہے جس سے وہ خطے کے مسلم ممالک کونہ صرف بدامنی میں دھکیلے گابلکہ اُنھیں تقسیم کرنے کے دیرینہ خواب کو پورا کر سکے گا ۔مسلم ممالک کے ایسے شدیدردِ عمل پرہی امریکہ نے وضاحت کی ہے کہ وہ اسرائیل کے اِس فیصلے سے متفق نہیں مگر ماضی کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی ا سرائیلی فیصلہ امریکی علم اور منظوری کے بغیرممکن نہیں۔ لہٰذاعین ممکن ہے آج کے موقف پر نظرثانی کرتے ہوئے اسرائیلی اقدام کی مستقبل میں تائید کردی جائے جس طرح گزشتہ دورِ صدارت میں ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت کرتے ہوئے امریکہ سفارتخانہ تل ابیب سے یہاں منتقل کرنے کی منظوری دی ۔اب بھی کچھ ایسا ہی کوئی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے کیونکہ اسرائیلی مفادات کی نگہبانی سے امریکہ کبھی چشم پوشی کرہی نہیں سکتا۔
حماس جیسے خطرے کامستقل خاتمہ اسرائیل کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اِس میں امریکی معاونت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں دونوں اب یہ مقصد مسلم ممالک کی افواج سے حا صل کرناچاہتے ہیں تاکہ حماس کامذہب کارڈبے اثر ہونے کے ساتھ اُس کاوجودہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے ۔علاوہ ازیں دونوں ممالک کاغزہ سے انسانی آبادی کے انخلا پر بھی اتفاق ہے۔ ایسی قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا ایک مقصد غزہ سے بے دخل کیے جانے والے فلسطینیوں کو یہاں منتقل کرنا ہے، جنھیں قبول کرنے پر صومالی لینڈ آمادہ ہے۔ اِس کے لیے غزہ مکینوں کو جبری طورپر فضائی اور زمینی راستوں سے منتقل کیا جا سکتا ہے ۔اِس میں صومالی لینڈ کی قیادت اسرائیل کو ہر ممکن سہولت دینے پر تیار ہے۔ اسی بناپر خیال کیاجاتا ہے کہ امریکی ظاہری ناپسندیدگی اور تائید سے انکار میںکوئی صداقت نہیں اور اِس کامقصد محض عربوں کو مطمئن کرنا ہے کیونکہ اِس ایک فیصلے سے غزہ ساکنین سے جان چھڑانا اور سارا علاقہ خالی کرانے کی راہ ہموارہوسکتی ہے ۔صومالی لینڈ کی بطور ایک آزاد ملک شناخت کوتسلیم کرنے میں انسانی حقوق جیسے معاملات کاکوئی تعلق نہیں، کیونکہ اسرائیل کو انسانی حقوق سے کوئی سروکار نہیں بلکہ یہ عرب ممالک کی جغرافیائی حدبندی کو تبدیل کرنے کی ایک ایسی بڑی سازش ہے جس سے عربوں کی معیشت و دفاع دونوں متاثر ہوں گے ۔صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی آڑمیں اسرائیل کے لیے شام اور لیبیا کی طرح دیگر عرب ممالک میں خانہ جنگی کوفروغ دیناآسان ہوجائے گا ۔اِس طرح عرب بادشاہتوں سے تمام مطالبات منوانے میں آسانی رہے گی۔ اِس میں امریکی معاونت اسرائیل کوحاصل ہونا عین قرین قیاس ہے ۔ایسی سازشوں کوپایہ تکمیل تک پہنچانے میں خطے سے ایتھوپیا کا تعاون الگ نعمت ہے۔ بحیرہ احمرپر کنٹرول ،عرب ممالک کودبائو ،حوثیوں کاگھیرائو اور غزہ کے مکینوںکی منتقلی جیسے مقاصدکے لیے اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی،محاذآرائی اوربے چینی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے ۔صومالی لینڈ کوبطور آزاد ملک تسلیم کرنے سے عرب ممالک داخلی انتشاروتقسیم کا شکارہوں گے کیونکہ مشرقی افریقہ کی یہ ریاست خطے میں اسرائیلی مفادات کی نگہبانی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو کہ صومالی لینڈ صومالی لینڈ کی میں اسرائیل اسرائیل کو مسلم ممالک اسرائیل کی تسلیم کرنے کہ اسرائیل عرب ممالک آزاد ملک کیونکہ ا ممالک کو فیصلے سے کو تسلیم کرنے کی کرنے کے کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
مظفرآباد (آئی پی ایس )آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے شہر میرپور اور اس کیگردونواح میں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسزبحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا ہے۔ اس حوالے کچھ دیر قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اطلاعات ہیں کہ میرپور آزاد کشمیرمیں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رابطہ جلد بحال کردیا جائیگا۔
ان کا کہنا تھا کہ امید ہے مظفرآباد اور دیگرعلاقوں کے حوالے سے ہماری درخواستیں بھی جلد منظور کرلی جائیں گی۔ واضح رہے میرپور آزادکشمیر میں گزشتہ 45 دن سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرامریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی اگلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم