سعودی عرب و پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا غزہ کی بگڑتی انسانی صورتحال پر شدید اظہارِ تشویش
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو شدید، خراب اور غیر یقینی موسمی حالات کے باعث مزید سنگین ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ سے یکجہتی: استنبول میں نئے سال پر ہزاروں افراد کا مارچ
جمعے کو مشترکہ بیان میں پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ شدید بارشوں، طوفانوں اور سخت سردی کے ساتھ ساتھ انسانی امداد تک ناکافی رسائی نے غزہ میں انسانی بحران کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔
وزرائے خارجہ نے نشاندہی کی کہ خراب موسم نے پہلے سے نازک انسانی حالات کو بے نقاب کر دیا ہے خاص طور پر تقریباً 19 لاکھ بے گھر افراد اور خاندانوں کے لیے جو غیر محفوظ اور ناکافی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ بیان کے مطابق سیلاب زدہ کیمپ، تباہ شدہ خیمے، کمزور عمارتوں کا منہدم ہونا اور شدید سردی، غذائی قلت کے ساتھ مل کر شہری جانوں کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان حالات کے باعث بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے خاص طور پر بچوں، خواتین، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے۔
مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کے اداروں، بالخصوص انروا اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی کوششوں کو سراہا گیا، جو نہایت مشکل حالات میں فلسطینی شہریوں تک زندگی بچانے والی امداد پہنچا رہی ہیں۔
مزید پڑھیے: جیکی چن غزہ کے بچوں کی حالت دیکھ کر جذباتی، ویڈیو نے دل دہلا دیا
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی غیر سرکاری امدادی تنظیمیں غزہ اور مغربی کنارے میں بلا رکاوٹ، مستقل اور آزادانہ طور پر کام کر سکیں کیونکہ انسانی امداد کی فراہمی میں ان کا کردار ناگزیر ہے۔ ان اداروں کے کام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ناقابلِ قبول قرار دی گئی۔
بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا اور کہا گیا کہ ان اقدامات کا مقصد جنگ بندی کو پائیدار بنانا، غزہ میں جنگ کا خاتمہ، فلسطینی عوام کے لیے باعزت زندگی کو یقینی بنانا اور فلسطینی خودمختاری و ریاست کے قیام کی جانب ایک قابلِ اعتماد راستہ ہموار کرنا ہے۔
وزرائے خارجہ نے فوری طور پر ابتدائی بحالی کے اقدامات شروع کرنے اور انہیں وسعت دینے پر زور دیا جن میں شدید سرد موسم سے بچاؤ کے لیے محفوظ اور باعزت رہائش کی فراہمی شامل ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ خیموں، رہائشی سامان، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی سے متعلق سہولیات سمیت ضروری اشیا کی غزہ میں ترسیل پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔
وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے غزہ میں بلا رکاوٹ اور مکمل انسانی امداد کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی، اور رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے کھولنے کا بھی مطالبہ کیا۔
غزہ کی حکومت کا جنگ کے خاتمے اور تعمیر نو کا مطالبہدوسری جانب غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے نئے سال کے موقع پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سنہ 2026 کو ایک فیصلہ کن موڑ بننا چاہیے۔
مزید پڑھیں: غزہ، اسرائیل کی درجنوں امدادی تنظیموں پر پابندی، 10 ممالک کا رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ
بیان میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے، اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا، تمام سرحدی راستوں کو مستقل طور پر کھولنے، تعمیرِ نو کے عمل کے آغاز اور صحت کے تباہ حال نظام کی فوری مدد کا مطالبہ کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ امدادی اداروں کو بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرنے کی اجازت دی جائے اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کے تحت جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
جنگ بندی کے باوجود حملوں کے الزاماتادھر فلسطینی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق رفح، غزہ سٹی اور وسطی غزہ کے بعض علاقوں میں گولہ باری اور فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ جنگ نے اسرائیل کی ساکھ کو ہلا کر رکھ دیا، بیشتر اسرائیلی اپنی ریاست سے مایوس
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی درجنوں افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل پر جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل غزہ مسلم ممالک کا غزہ صورتحال پر اظہار تشویش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل مسلم ممالک کا غزہ صورتحال پر اظہار تشویش اقوام متحدہ کے لیے غزہ کے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند