پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان اقتصادی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں آذربائیجان کی جانب سے پاکستان میں 2 ارب ڈالر تک کی ممکنہ سرمایہ کاری کے لیے فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس پیشرفت کو پاکستان کی معیشت کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی استحکام میں مدد دے سکتی ہے۔

Deputy Prime Minister/ Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 held a telephonic conversation with H.

E. Mikayil Jabbarov, Minister of Economy of Azerbaijan @MikayilJabbarov to discuss realization of Azerbaijani investment of US$ 2 Billion in Pakistan.

The two… pic.twitter.com/M6DXfFezeW

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 2, 2026

وزرات خارجہ پاکستان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کی گئی پوسٹ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آذربائیجان کے وزیرِ معیشت میکائل جباروف سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں دونوں ممالک نے پاکستان کے اہم معاشی شعبوں میں آذربائیجانی سرمایہ کاری کے طریقۂ کار کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس فریم ورک کے تحت ترجیحی شعبوں میں آذربائیجان کا سرمایہ پاکستان منتقل کرنے کی راہ ہموار کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ترکیہ، پاکستان اور آذربائیجان 3 ریاستیں مگر ایک قوم ہیں: رجب طیب اردوان

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور اعلیٰ سطح کے روابط کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اعلیٰ سطحی روابط باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

اگرچہ سرمایہ کاری کے مخصوص شعبوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، تاہم پاکستان توانائی، معدنیات، انفرااسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور صنعتی ترقی جیسے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ آذربائیجان، جو توانائی کا ایک اہم پیداواری ملک اور خطے میں ابھرتا ہوا سرمایہ کار ہے، جنوبی ایشیا میں اپنی اقتصادی موجودگی بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

یہ رابطہ پاکستان کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت مضبوط سفارتی تعلقات کو عملی معاشی فوائد میں تبدیل کیا جا رہا ہے، خصوصاً دوست ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کے لیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آذربائیجان اسحاق ڈار پاکستان میکائل جباروف وزرات خارجہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار پاکستان میکائل جباروف وزرات خارجہ سرمایہ کاری کے پاکستان اور کے لیے

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ