تاجروں نے 2025 کو ملکی تاریخ کا بدترین سال قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) چھوٹے تاجروں نے سال 2025 کو ملکی تاریخ کا بدترین سال قرار دیتے ہوئے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق 2025 میں تجارتی سرگرمیاں 60 فیصد سے بھی کم رہیں، سیاسی عدمِ استحکام نے معاشی بحران کو جنم دیا، مستقبل سے مایوسی
اور غیریقینی صورتحال سے مقامی مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا اور نئے تجارتی اور صنعتی یونٹس قائم نہ ہوسکے۔آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 تالہ بندی کا سال رہا۔ لاتعداد صنعتوں اور کاروبار کی بندش سے بیروزگاری میں ہولناک اضافہ ہوا، سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کا رحجان بڑھ گیا۔ مسلسل بڑھتی ہوئی ہولناک اور ناقابلِ برداشت مہنگائی نے 2025 کو غریب اور متوسط طبقے کےلیے ڈراو¿نا خواب بنادیا۔ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے دعویدار صنعت و تجارت کو دیوالیہ ہونے سے نہ بچاسکے، 2025 میں سرکاری شعبوں کی کارکردگی بدترین رہی اور عاقبت نااندیش اور غفلت میں ڈوبے حکمرانوں نے بیرونی سرمایہ کاری کے نام سے 35غیرملکی دورے کیے لیکن ایک دھیلہ بھی نہ آیا بلکہ مقامی سرمایہ بھی بیرونِ ملک منتقل ہوتا رہا۔ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش اور حکمت عملی نظر نہیں آئی، 2026 میں بھی دور دور تک مشکلات کے خاتمے اور بہتری کی امید نظر نہیں آرہی۔ آل کراچی تاجر اتحاد کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسوں کی بھرمار، بجلی، گیس، پیٹرول اور ڈالر کی ناقابلِ برداشت قیمتوں اور مصنوعی مہنگائی کی روک تھام نہ ہونے کے نتیجے میں معیشت مسلسل زوال پذیر اور ضروریات زندگی کی اشیاءغریب و متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔