data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے دسمبر کے مہینے میں ٹیکس وصولی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

ایف بی آر نے کسی بھی سال کے دسمبر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیکس ریونیو جمع کیا، جو ادارے کی تاریخ کی نمایاں کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

ایف بی آر حکام نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دسمبر میں 1427 ارب 10 کروڑ روپے ٹیکس ریونیو جمع کیا گیا، جو 1446 ارب روپے کے ماہانہ ہدف کا 99 فیصد بنتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اب تک دسمبر کے مہینے میں ہونے والی سب سے زیادہ وصولی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان لینڈ ریونیو سروس نے بھی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 1310 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 1308 ارب روپے ٹیکس وصول کیا، جو 99.

8 فیصد ہے۔ اس کارکردگی کو مالی نظم و ضبط اور اصلاحات کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

حکام کے مطابق نومبر کے مقابلے میں دسمبر کے دوران ٹیکس وصولی میں 59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نومبر میں ٹیکس وصولی 898 ارب روپے تھی جو دسمبر میں بڑھ کر 1427.1 ارب روپے تک پہنچ گئی، جسے مالی سال کی ایک بڑی پیش رفت کہا جا رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹیکس وصولی دسمبر کے ارب روپے

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا