data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنے فوجی دستے واپس بلا لیے ہیں۔

اماراتی وزارت دفاع کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل ہونے کے بعد شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت فوجی مشن اختتام پذیر ہوا اور تمام فوجی اہلکاروں کو محفوظ طریقے سے واپس لایا گیا۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ یو اے ای کی اپنی صوابدید پر کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل یمن کی صدارتی کونسل نے یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اماراتی فوجیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ یمنی فیصلے کے بعد سعودی عرب نے بھی یو اے ای سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنی فوج واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فوری طور پر بند کرے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے یمن سے متعلق سعودی بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ ادھر جنوبی یمن کے علیحدگی پسند گروپ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے جنوبی ریاست کے قیام کے لیے دو سالہ منصوبے کا اعلان کر دیا ہے اور متنازعہ جنوبی یمن کے لیے نیا آئین اپنانے کے ارادے کا بھی اظہار کیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ یہ علیحدگی نہیں بلکہ مکمل خودمختاری کی جانب ایک قدم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یو اے ای

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان