اسلام آباد (وقار عباسی/ وقائع نگار+ نوائے وقت رپورٹ) اسلام آبادکی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 9 مئی کو ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشتگردی کرنے کے کیس کا فیصلہ سنا تے ہوئے 7  سوشل میڈیا تبصرہ نگاروں کو عمر قید کی سزا سنادی ہے۔ اے ٹی سی اسلام آباد میں پراسکیوشن کی جانب سے ڈیجیٹل دہشتگردی کے کیس میں مجموعی طور  پر 24 گواہان کو پیش کیا گیا۔ جج طاہر عباس سپرا نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ پراسکیوشن کی جانب سے راجا نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے۔ جبکہ عدالت میں ملزمان کی جانب سے گلفام اشرف گورائیہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔  گلفام گورائیہ ایڈووکیٹ کو عدالت کی جانب سے ملزمان کا وکیل مقررکیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی قوانین کے مطابق ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے  ڈیجیٹل دہشتگردی کے کیس میں عادل راجا، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر اور معید پیرزادہ کو 2، 2 بار عمر قید کی سزائیں سنائیں۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں بھی مجموعی طور  پر 35 سال قید اور 15 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزائیں بھی سنائیں۔ عدالت نے پراسیکوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا تھا اور کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ واضح رہے کہ تھانہ آبپارہ کے مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمرقید کی سزا سنائی گئی جبکہ شاہین صہبائی، حیدر مہدی اور  وجاہت سعید کو بھی سزا سنائی گئی۔ تھانہ رمنا میں درج  مقدمے میں شاہین صہبائی، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو سزا سنائی گئی۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق عدالتی فیصلے میں ملزموں پر 9 مئی کے واقعات کے دوران سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی اداروں کیخلاف منظم مہم چلانے اور اشتعال انگیزی کے الزامات ثابت ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈیجیٹل دہشتگردی کی جانب سے عدالت نے کی سزا

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا