میکسیکو میں 6.5 شدت کے زلزلے کے دوران خاتون صدر کا پرسکون رویہ وائرل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
میکسیکو میں 6.5 شدت کا زلزلہ آیا ہے جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
تاہم اس قدرتی آفت کے دوران جو واقعہ وائرل ہوا وہ خاتون صدر کے پرسکون رویے کا ہے۔ زلزلے کے دوران میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باؤم پریس کانفرنس دے رہی تھیں۔
زلزلے کے دوران ایمرجنسی الارمز بجنے لگے اور کمرہ لرزنے لگا لیکن انہوں نے پرسکون انداز میں سب کو محفوظ طریقے سے باہر نکالا اور پھر چند منٹ بعد اپنی تقریر کو دوبارہ جاری رکھا جس کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہا ہے۔
BREAKING: Mexico earthquake disrupts President Claudia Sheinbaum’s press conference, attendees rushed outside pic.
زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.5 ریکارڈ ہوئی اور ساؤتھ میکسیکو میں اُس کا مرکز تھا۔ زلزلے کے وقت ایمرجنسی الارمز بجے، جس سے کانفرنس عارضی طور پر رُک گئی۔
صدر نے پرسکون رہتے ہوئے لوگوں سے کمرہ چھوڑنے کا کہا اور بعد میں تقریب دوبارہ شروع کی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوری طور پر کوئی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔