میکسیکو میں 6.5 شدت کے زلزلے کے دوران خاتون صدر کا پرسکون رویہ وائرل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
میکسیکو میں 6.5 شدت کا زلزلہ آیا ہے جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
تاہم اس قدرتی آفت کے دوران جو واقعہ وائرل ہوا وہ خاتون صدر کے پرسکون رویے کا ہے۔ زلزلے کے دوران میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باؤم پریس کانفرنس دے رہی تھیں۔
زلزلے کے دوران ایمرجنسی الارمز بجنے لگے اور کمرہ لرزنے لگا لیکن انہوں نے پرسکون انداز میں سب کو محفوظ طریقے سے باہر نکالا اور پھر چند منٹ بعد اپنی تقریر کو دوبارہ جاری رکھا جس کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہا ہے۔
BREAKING: Mexico earthquake disrupts President Claudia Sheinbaum’s press conference, attendees rushed outside pic.
زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.5 ریکارڈ ہوئی اور ساؤتھ میکسیکو میں اُس کا مرکز تھا۔ زلزلے کے وقت ایمرجنسی الارمز بجے، جس سے کانفرنس عارضی طور پر رُک گئی۔
صدر نے پرسکون رہتے ہوئے لوگوں سے کمرہ چھوڑنے کا کہا اور بعد میں تقریب دوبارہ شروع کی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوری طور پر کوئی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔