پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اسماء عباس نے لیجنڈری اداکارہ بشریٰ انصاری اور اداکار فیروز خان سے متعلق گمراہ کن اور سنسنی خیز خبروں پر سوشل میڈیا پیجز کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

اسماء عباس پاکستان کی سینئر اور منجھی ہوئی اداکارہ ہیں، جنہوں نے متعدد کامیاب ڈراموں میں اپنی شاندار اداکاری کے جوہر دکھائے۔ حال ہی میں انہیں من جوگی، بےبی باجی کی بہوئیں اور دستک میں اداکاری پر خوب سراہا گیا۔

حال ہی میں اسماء عباس نے سوشل میڈیا پیجز کو اس وقت سخت تنقید کا نشانہ بنایا جب مختلف سوشل میڈیا پیجز کی جانب سے بشریٰ انصاری کے فیروز خان سے متعلق بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

View this post on Instagram

A post shared by FHM PAKISTAN (@fhmpakistan)


ان کا کہنا تھا کہ محض کلک بیٹ اور سنسنی پھیلانے کے لیے بشریٰ انصاری کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اسماء عباس نے واضح کیا کہ حال ہی میں میری معصوم بہن بشریٰ انصاری نے کہیں یہ کہا تھا کہ میں نے فیروز خان کے ساتھ پہلی بار کام کیا۔ شروع میں وہ کچھ شرمیلے اور خاموش تھے، لیکن بعد میں ان کے ساتھ ایک خوبصورت تعلق بن گیا۔ اب وہ مجھ سے پیار سے ملتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ بہت سویٹ ہیں اور میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ سب ایک محبت بھرا، خاندانی سا تعلق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’سوشل میڈیا پر اس بیان کو غلط رنگ دیا گیا، میں نے کہیں پڑھا کہ فیروز خان نے کہا ہے کہ وہ بشریٰ انصاری سے محبت کرتے ہیں، ان کے بغیر نہیں رہ سکتے اور ان سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘

اسماء عباس نے یہ بھی کہا کہ ’یہ کون لوگ ہیں، ان لوگوں کے دماغ میں کیا بھرا ہوا ہے، مجھے سمجھ نہیں آتا۔ وہ اس قدر جھوٹ کیسے لکھ سکتے ہیں؟ انہیں ذرا بھی خوف نہیں آتا؟ کیا وہ اپنی سزا کے بارے میں نہیں سوچتے؟ مجھے یہ پڑھ کر بےحد غصہ آیا۔ یہ انتہائی تکلیف دہ ہے کہ آپ جو چاہیں، لکھ دیں۔‘

انہوں نے اپنی ویڈیو میں ایسے لوگوں کے لیے ہدایت کی دعا بھی کی اور کہا کہ ’ڈراموں میں جو فنکار ہمارے بچوں کا کردار ادا کرتے ہیں وہ ہمارے بچوں جیسے ہی ہوتے ہیں۔‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسماء عباس نے سوشل میڈیا فیروز خان

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف