پنجاب فوڈ اتھارٹی کے خاتمے کی سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد قرار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
لاہور:
پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اپنی بندش سے متعلق خبروں کو افواہوں اور غلط معلومات پر مبنی قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کر دی ہے۔
فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق ادارہ نہ صرف بدستور قائم ہے بلکہ بطور ایک خودمختار (اٹانمس) باڈی اپنے تمام قانونی اختیارات کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پرائس کنٹرول اینڈ کموڈٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا نام تبدیل کر کے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ رکھا گیا ہے، تاہم اس تبدیلی کا پنجاب فوڈ اتھارٹی کے وجود یا اختیارات سے کوئی تعلق نہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی بدستور صوبے میں خوراک کے معیار اور صارفین کی صحت کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔
ترجمان کے مطابق 2026 میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نئے عزم اور جامع حکمت عملی کے تحت ملاوٹ مافیا کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرے گی۔ اس مقصد کے لیے رواں سال ڈیری، میٹ اور واٹر سیفٹی کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے آن لائن مانیٹرنگ پورٹلز قائم کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فوڈ سیفٹی اور انسپیکشن سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور مؤثریت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ فوڈ سیفٹی ٹیمیں یونیفارم اور باڈی کیمز کے ساتھ فیلڈ میں متحرک رہیں گی جس سے کارروائیوں کا ریکارڈ محفوظ اور شفاف رہے گا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی قوانین کے مطابق اپنے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے کام کر رہی ہے اور رواں سال غذائی دہشتگردوں اور جعلساز مافیا کو نکیل ڈال کر صوبے سے باہر نکالنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور مستند معلومات کے لیے فوڈ اتھارٹی کے سرکاری ذرائع پر ہی اعتماد کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنجاب فوڈ اتھارٹی فوڈ اتھارٹی کے کے لیے
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔