بسنت کی اجازت دے کر بچوں اور نوجوانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا جارہا ہے، جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
فوٹو: سوشل میڈیا
جماعت اسلامی پنجاب کے امیر جاوید قصوری کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت سرکاری سرپرستی میں بسنت جیسے خونی تہوار پر پابندی عائد کرے۔
منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید قصوری نے کہا کہ اگر بسنت کے نتیجے میں ڈور پھرنے سے اموات ہوئیں تو اس کی ذمہ دار وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ہوں گی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت 2026ء کا باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف موٹرسائیکل سواروں پر بھاری جرمانے عائد کیے جارہے ہیں تو دوسری جانب بسنت تہوار کی اجازت دے کر بچوں اور نوجوانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا جارہا ہے۔
جماعت اسلامی پنجاب کے امیر نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں غیر سنجیدہ نظر آتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔