سابق ٹیسٹ کرکٹر مشتاق احمد کی بیٹی کے ریسیپشن کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
1992 کا ورلڈکپ جیتنے والی پاکستان ٹیم کے اہم رکن سابق لیجنڈری لیگ اسپنر مشتاق احمد ایک بار پھر خوشیوں کے لمحات سے گزر رہے ہیں۔
گزشتہ برس اپنی بڑی بیٹی حبیبہ کی شادی کے بعد اس سال انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی نوال کی شادی بھی خوش اسلوبی سے انجام دی۔
مشتاق احمد کی بیٹی نوال کی شادی بصیرم خان کے ساتھ ایک شاندار اور پُروقار تقریب میں ہوئی، جس کا اہتمام خود مشتاق احمد اور ان کے اہلِ خانہ نے کیا۔
دلہن نے آئس بلیو اور سلور رنگ کا خوبصورت لہنگا زیب تن کیا جبکہ دولہا نے نفیس ٹو پیس سوٹ پہنا۔
تقریب میں انضمام الحق، معین خان اور مصباح الحق سمیت کرکٹ حلقوں کی نامور شخصیات نے شرکت کی اور جوڑے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
یہ تقریب خوشی، محبت اور خوبصورتی کا حسین امتزاج تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مشتاق احمد
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔