پاکستان ایئر فورس کا ’تیمور‘ ویپن سسٹم کاکامیاب تجربہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)پاکستان ایئر فورس نے مقامی طور پر تیار کردہ جدید ’تیمور‘ ویپن سسٹم کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کر لیا ہے، جو پاکستان کی دفاعی اور خلائی صلاحیتوں میں اضافے کی جانب ایک اور اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق ’تیمور‘ فضا سے مار کرنے والا جدید کروز میزائل (Air-Launched Cruise Missile) ہے، جو روایتی وار ہیڈ سے لیس ہے اور 600 کلومیٹر تک دشمن کے زمینی اور سمندری اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کامیاب تجربے کا مقصد پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری، اسٹرائیک رینج اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ فلائٹ ٹیسٹ کے دوران میزائل نے تمام طے شدہ تکنیکی اہداف کامیابی سے حاصل کیے۔دفاعی ماہرین کے مطابق ’تیمور‘ ویپن سسٹم کی شمولیت سے پاکستان کی ڈیٹرنس صلاحیت مزید مضبوط ہو گئی ہے اور یہ کامیابی ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
https://dailymumtaz.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔