خاموش قاتل بچوں کو نشانہ بنانے لگا، طبی ماہرین شدید تشویش میں مبتلا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر، جسے طویل عرصے سے بالغ افراد کی بیماری سمجھا جاتا تھا، اب تیزی سے بچوں اور نوجوانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
سائنسی جریدے لانسیٹ میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق نے اس رجحان کو عالمی سطح پر صحتِ عامہ کا ایک سنگین مسئلہ قرار دیا ہے، جس پر اب تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی تھی۔
تحقیق کے مطابق برطانیہ میں 19 سال سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح گزشتہ 2 دہائیوں میں دگنی ہو چکی ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شرح 3.
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں ہائپرٹینشن کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں دل، دماغ اور گردوں کی سنگین بیماریوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص بالغوں سے مختلف ہوتی ہے، کیونکہ اس کا تعین عمر، قد اور جنس کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ اس بیماری کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اکثر بچوں میں اس کی کوئی واضح علامات سامنے نہیں آتیں، جس کے باعث یہ مسئلہ طویل عرصے تک نظر انداز ہو جاتا ہے اور اسی لیے اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔
تحقیق میں اس بڑھتے ہوئے مسئلے کی کئی وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں غیر متوازن غذائی عادات، نمک اور جنک فوڈ کا زیادہ استعمال، جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور بچوں میں مٹاپے کا بڑھتا ہوا رجحان شامل ہے۔ اس کے علاوہ اسکولوں کا دباؤ، سوشل میڈیا اور نفسیاتی اضطراب بھی بچوں کے بلڈ پریشر پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
برطانوی ڈاکٹروں نے اس صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں اسکول جانے والے بچوں کی باقاعدہ بلڈ پریشر اسکریننگ کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ اس بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی مرحلے میں اس مسئلے پر قابو پا لیا جائے تو مستقبل میں سنگین طبی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دے کر، مناسب غذائی عادات، جسمانی سرگرمی اور ذہنی سکون کو یقینی بنا کر ہائی بلڈ پریشر کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں عالمی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہائی بلڈ پریشر بچوں میں سکتا ہے
پڑھیں:
ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
اسلام آباد: معروف امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی ہے، جسے جدید ڈیزائن اور ہلکے وزن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ٹیسلا بچوں کی بیلنس بائیک مضبوط مگر ہلکے میگنیشیم فریم پر مشتمل ہے، جبکہ اس میں بچوں کی سہولت کے لیے ایڈجسٹ ہونے والی نشست بھی دی گئی ہے۔ بائیک کے سائیڈ پر ٹیسلا کا نام اور سامنے نمایاں T لوگو بھی موجود ہے۔
یہ بائیک روایتی سائیکل سے مختلف ہے کیونکہ اس میں نہ پیڈل موجود ہیں، نہ موٹر اور نہ ہی بریک۔ بچے اپنے پیروں کی مدد سے اسے چلاتے ہیں، جس سے ان میں توازن برقرار رکھنے اور سائیکل چلانے کی بنیادی مہارت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
کمپنی نے اس منفرد بائیک کی قیمت 225 امریکی ڈالر مقرر کی ہے، جو عام بیلنس بائیکس کے مقابلے میں زیادہ ہے، کیونکہ مارکیٹ میں ایسی بیشتر بائیکس تقریباً 100 ڈالر میں دستیاب ہوتی ہیں۔
قیمت نسبتاً زیادہ ہونے کے باوجود یہ بائیک فروخت کے آغاز کے فوراً بعد آؤٹ آف اسٹاک ہو گئی، جس سے صارفین کی غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
ٹیسلا کے مطابق نئی کھیپ کے لیے 31 جولائی سے پری آرڈر دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بائیک 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے موزوں ہے۔ اس کے استعمال کے لیے بچے کی ٹانگ کی کم از کم لمبائی 13.7 انچ (35 سینٹی میٹر) ہونی چاہیے، جبکہ تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ وزن 30 کلوگرام اور قابل برداشت زیادہ سے زیادہ وزن 35 کلوگرام رکھا گیا ہے۔
ٹیسلا نے یہ بھی بتایا کہ بائیک کی اسمبلنگ کے لیے درکار تمام ضروری اوزار پیکج میں شامل ہوں گے، جبکہ صارفین کو مکمل ہدایات پر مشتمل استعمال کا کتابچہ بھی فراہم کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق بچوں کی مصنوعات کی مارکیٹ میں ٹیسلا کی یہ نئی پیشکش کمپنی کی برانڈ توسیع کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ گاڑیوں کے علاوہ دیگر صارفین کی مصنوعات میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہے۔