پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے 15 ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا؛ سرمایہ کاروں کی تعداد بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے 15 ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا؛ سرمایہ کاروں کی تعداد بلند ترین سطح پر WhatsAppFacebookTwitter 0 3 January, 2026 سب نیوز
کراچی:(آئی پی ایس) پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 15 ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بازار حصص میں اسٹاک انویسٹرز کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پی ایس ایکس میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے 50 فیصد سے زائد منافع حاصل کیا، جس کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کارکردگی اور منافع کے لحاظ سے بھارت، سری لنکا، یو اے ای اور چائنا اسٹاک مارکیٹس سے کہیں بہتر رہی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ریکارڈ رفتار نے مارگن اسٹینلے کیپٹل انٹرنیشنل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جب کہ ہانگ کانگ، جاپان، سنگاپور اور ترکیہ کی اسٹاک مارکیٹس بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج 15 ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر براجمان ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسحاق ڈار پاک چین وزرائے خارجہ سٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت کیلئے بیجنگ روانہ اسحاق ڈار پاک چین وزرائے خارجہ سٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت کیلئے بیجنگ روانہ شیخ رشید نے چیف جسٹس سے 9 مئی کے کیسز میں اپیلوں کو سننے کی درخواست کردی ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستانی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی عالمی منڈیوں تک رسائی اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں متعددبین الاقوامی این جی اوز کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ اسحاق ڈار کا سعودی وزیرخارجہ سے رابطہ، خطے میں تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات پر زور عالمی سطح پر چینی صدر کے نئے سال کے تہنیتی پیغام کی پزیرائیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اسٹاک ایکسچینج پیچھے چھوڑ دیا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :