انتخابات کو کھیل تماشا بنانے کی ذمے دار اسٹیبلشمنٹ ہے‘ لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260103-06-28
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی چاہتی ہے78 سال سے عوام پر مسلط کردہ نظام نے کرپشن، بے روز گاری، بدامنی بھوک و افلاس کے سوا کچھ نہیں دیا، انتخابات کو کھیل تماشا بنایا ہوا ہے، جس کی ذمہ داراسٹیلشمنٹ ہے وہی وہ نام نہاد جمہوری پارٹیاں بھی ہے ہر دفہ ایک نئی پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے چھڑی اور ہاتھ کی گھڑی بن جاتی ہے، کبھی مسلم لیگ ق، کبھی مسلم لیگ ن، کبھی پیپلز پارٹی، توکبھی پی ٹی آئی پی آئی کو فروخت کر دیتی ہیں، اسٹیل ملز، واپڈ، اور مزید سرکاری اداری فروخت کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جمہوریت، سیاسی انقلاب کے لیے انتخاب ہی واحد پائیدار حل ہے اور جماعت اسلامی بھی اس پرپابند ہے کہ ہمیں اپنی جد و جہد سیاسی، جمہوری، آئینی کے دائر ے کے اندر رہتے ہوئے کرنا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد کے تحت ڈولمین بینکوئیٹ میں استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے عبد المجید بادینی، جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی سندھ محمد یوسف، امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد حافظ طاہر مجید، ضلعی جنرل سیکرٹری محمد حنیف شیخ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر نائب امرا عقیل احمد خان، عبدالقیوم شیخ، ڈپٹی جنرل سیکرٹریز عبدالباسط خان، حافظ سفیان ناصر اور جے آئی یوتھ حیدرآباد کے صدر عرفان قائم خانی بھی موجود تھے۔ تقریب میں ناظمین زونز، کارکنا ن اور خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ پی آئی اے کو فروخت کر دیا ہے، اسٹیل ملز، واپڈ، اور مزید سرکاری ادارے فروخت کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جمہوریت، سیاسی انقلاب کے لیے انتخاب ہی واحد پائیدار حل ہے اور جماعت اسلامی بھی اس پر پابند ہے کہ ہمیں اپنی جد و جہد سیاسی، جمہوری، آئینی کے دائر ے کے اندر رہتے ہوئے کرنا ہے، لیکن آج انتخابات کو مذاق بنا دیا گیا ہے، آج انتخاب کا مینڈیٹ چوری کر لیا جاتا ہے، انتخابات کا کھیل تماشا لگایا ہوا ہے، اسٹیبلشمنٹ اس کی ذمہ دار ہے، ہر دفہ ایک نئی پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے چھڑی اور ہاتھ کی گھڑی بن جاتی ہے، کبھی مسلم لیگ ق، کبھی مسلم لیگ ن، کبھی پیپلز پارٹی، کبھی پی ٹی آئی بن جاتی ہے اور پیپلز پارٹی نے اپنی سیاست کو اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کیا ہوا ہے وہ جہا ں اور جب چاہیں اس طریقے سے ان کو استعمال کر سکتے ہیں، اس لیے انتخابات کے حوالے سے جو قوم کے ساتھ مذاق ہے جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی جماعتیں اس کی ذمہ دار ہیں، اسی طریقے سے یہ سیاست کو انجوائے کر رہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ نے سندھ کو پیپلز پارٹی کے حوالے کیا ہوا ہے، پنچاب کو مسلم لیگ ن کے حوالے کیا ہوا ہے جو چاہے وہ کرو، سندھ تباہ حال ہے صحت کے معاملات تباہ حالی کا شکار ہے، این ایف سی ایوارڈ میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد تمام صوبوں کے پاس وسائل موجود ہیں لیکن سندھ میں وسائل ڈاکا زنی اور لوٹ مار کا ذریعہ ہیں، جب چاہتے ہیں آئین میں ترمیم کر لیتے ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ سیاست کو بند گلی اور بحران سے نکالنا سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ آئین کی آزادی، عدلیہ آزاد ہونے چاہیے، قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے، انہوں نے کہا کہ سود کی لعنت بڑگتی جارہی ہے، کرپشن کی انتہا ہے، عام آدمی کے لیے زندگی چلانا مشکل ہو گیا ہے،گیارہ سال بعد یہ اجتماع ہوا، لاہور کا اجتماع عام بہت کامیابی کے ساتھ ہوا ہے،بے روزگاری بڑھتی چلی جارہی ہے 78سالوں سے پاکستان پر جاگیردار طبقہ مسلط ہے، اللہ نے پاکستان کو ہر نعمت سے مالا مال کیا ہے، پیداواری لاگت بڑھتی چلی جارہی ہے، اس معیشت کے پییے کو چلانا اس وقے بلکل نہ ممکن نہیں رہا او یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ 78سال میں یہ جو بڑے بڑے سیاستدانوں نے قومی معشیت کو بربادی سے دو چار کیا اب اس وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی عوام کو متحرک کر کے اور ا ن کو اس چیز پر قائل کر کے کہ بد کار لوگ ہوں گے، قومی وسائل پر ڈاکہ زنی کرنے والے ہوں گے ان کے زریعے معشیت کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے لیے اندرونی اور بیرونی قوتیں مسلسل ہر حربہ اختیار کررہی ہیں۔ آئین سے اعلانیہ بغاوت کرنے والے اور آئین پر اپنے اختیارات کی بنیاد پر انحراف کرنے والے ملک و مِلت کے لیے خطرناک ثابت ہورہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی کبھی مسلم لیگ پیپلز پارٹی لیاقت بلوچ کے حوالے کبھی پی ہوا ہے کی ذمہ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔