اسلام آبادمیں بلدیاتی انتخابات کاالتوا‘جماعت اسلامی کا کل احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260103-06-22
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف اتوار کو بڑا احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن شیڈول کے مطابق الیکشن کرائے، بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا کابینہ کا فیصلہ عوام، جمہوریت اور اسلام آباد دشمن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومت کی طرف سے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انجینئر نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ ہم اسلام آباد کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم وفاقی کابینہ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔ حکومت کو ہار سامنے نظر آرہی تھی اور ان کو امیدوار نہیں مل رہے تھے جس کے بعد وفاقی کابینہ نے انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ عوام، اسلام آباد اور جمہوریت کے ساتھ دشمنی ختم کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے اور اپنے حق کے لیے ہر فورم استعمال کریں گے۔ نومبر 2015 میں پہلی بار اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن ہوئے تھے جن کی مدت جون 2021 میں ختم ہوئی، اس کے بعد الیکشن نہیں ہوئے۔ انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے مسائل بڑھ گئے ہیں، پانی کے ساتھ ساتھ اب تو اسلام آباد میں قبرستان کا بھی مسئلہ ہے۔ ان مسائل کو مقامی نمائندے ہی حل کرسکتے ہیں مگر انتخابات نہیں کرائے جا رہے، یہ اسلام آباد کے عوام کے خلاف سازش ہے۔ انجینئر نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ 31 جولائی 2022 کو الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا مگر اسے پھر ملتوی کر دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر بھی عمل نہیں ہوا۔ اس بار بھی امیدواروں نے الیکشن کمیشن کو فیس جمع کرائی ہے مگر اب انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ حکومت انتخابات ملتوی کر کے عوام دشمنی کر رہی ہے، اسے امیدوار نہیں مل رہے ہیں۔ اسلام آباد کے عوام اس فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فرض ہے کہ وہ شیڈول کے مطابق الیکشن کروائے۔ یہ آرڈیننس آنے والے الیکشن کے لیے ہوگا موجودہ الیکشن پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ چوتھی مرتبہ الیکشن کا شیڈول آیا ہے، اس بار اسے ملتوی نہ کیا جائے۔ اتوار کو کابینہ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد میں بڑا احتجاجی مظاہرہ کریں گے، اگر الیکشن ملتوی ہوئے تو احتجاجی مظاہرے میں اگلا لائحہ عمل دیں گے اور اسلام آباد میں اپنی پسند کی جگہ پر دھرنا دیں گے۔ بہت سی یونین کونسلز میں حکومت کی طرف سے ایک بھی امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لے رہا ہے، اس وجہ سے حکومت الیکشن سے بھاگ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے اسلام ا باد میں الیکشن کمیشن انہوں نے کے عوام کے خلاف رہی ہے کہا کہ
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔