ڈکی بھائی فرد جرم کے لیے طلب؛ یوٹیوب چینل مال مقدمہ ہے: عدالت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ضلع کچہری میں یوٹیوبر سعدالرحمان المعروف ڈکی بھائی اور دیگر ملزمان کے خلاف جوئے کی تشہیر کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے تمام ملزمان کو 16 جنوری کو طلب کر لیا۔ آئندہ سماعت پر ملزمان پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔ عدالت نے کیس سے متعلق چالان کی کاپیاں بھی ملزمان کے حوالے کر دی ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ بغیر اجازت وی لاگ کرنا غیر قانونی تھا اور اس مقصد کے لیے پہلے باقاعدہ درخواست دائر کی جانی چاہیے تھی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کسی بھی زیر سماعت معاملے میں اجازت صرف عدالت ہی دے سکتی ہے۔
ڈکی بھائی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کس چیز کی اجازت لی جائے، اور یہ بھی کہا کہ ان کے کلائنٹ اپنے چینل پر وی لاگ کر ہی نہیں رہے۔ عدالت نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر دیا گیا بیانِ حلفی اجازت تصور نہیں کیا جا سکتا اور پوچھا کہ کوئی شخص خود سے اپنے لیے اجازت کیسے دے سکتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ سعدالرحمان کا یوٹیوب چینل اس وقت مالِ مقدمہ ہے اور اس چینل سے ویڈیوز اپ لوڈ کرنا غیر قانونی تصور ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر ملزم وی لاگنگ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، مگر اسی چینل سے اپ لوڈنگ کی اجازت نہیں۔
سماعت کے دوران پروسیکیوشن نے بھی وی لاگنگ کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ عدالت نے کیس کی مزید کارروائی 16 جنوری تک ملتوی کر دی، جب ملزمان پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔