data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نوابشاہ(نمائندہ جسارت )سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ کے اہم اور تاریخی فیصلے کے بعد سندھ بھر کے نجی تعلیمی اداروں میں 10 فیصد مفت تعلیم کی فراہمی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔عدالت نے سندھ کے مختلف ڈویژنز کے ڈائریکٹر پرائیوٹ ایجوکیشن کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اپنے ڈویژنز میں موجود ان تمام نجی اسکولز کی مکمل اور مستند تفصیلات عدالت میں جمع کروائیں جو 10 فیصد مفت تعلیم کے کوٹے پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔86 نجی اسکولوں کی فہرست عدالت میں جمع۔ذرائع کے مطابق شہید بے نظیر آباد ڈویژن کے نوابشاہ شہر میں قائم 86 نجی اسکولز کی تفصیلی فہرست سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں جمع کروا دی گئی ہے، جس کے بعد عدالت نے ان فہرستوں کی شفافیت جانچنے کے لیے محکمہ انسداد بدعنوانی (اینٹی کرپشن) کو باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔عدالتی احکامات کے بعد محکمہ انسداد بدعنوانی نے خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو اس امر کو یقینی بنا رہی ہیں کہ 10 فیصد مفت تعلیم کا کوٹہ صرف مستحق اور اہل طلبا کو ہی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں نوابشاہ کے 10 نجی اسکولز میں طلبا اور والدین سے تفصیلی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ مزید اسکولز کے دورے کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی اسکول میں بدعنوانی، سفارش، کوٹہ کی غلط تقسیم یا غیر شفاف طریقہ کار پایا گیا تو متعلقہ اسکول کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں رجسٹریشن اور لائسنس کی منسوخی کے ساتھ بھاری جرمانے بھی شامل ہوں گے۔عدالتی کارروائی کے بعد نجی تعلیمی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ والدین نے سندھ ہائیکورٹ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے غریب اور مستحق بچوں کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ذرائع کے مطابق بعض نجی اسکول مالکان کی جانب سے محکمہ انسداد بدعنوانی کے ساتھ ساز باز کی شکایات بھی زبان زد عام ہیں، جن کی شفاف تحقیقات کے لیے مزید سخت اقدامات متوقع ہیں۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ ہائیکورٹ مفت تعلیم کے بعد

پڑھیں:

ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت

کراچی:

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے۔

جناح اسپتال کراچی میں چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص کیلئےاسکریننگ کا عمل مزید تیز کردیا گیا ہے، زیادہ سے زیادہ اسکریننگ سے ایچ آئی وی پر جلد قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے حکومت سندھ بھرپور کوششیں کر رہی ہے، ہمیں معلوم ہے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، صحت کے شعبے میں حال ہی میں نئی بھرتیاں کی گئی ہیں، مزید بھرتیوں کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں، اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے مزید بھرتیوں سے مدد ملے گی۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اسپتالوں میں میڈیا کی موجودگی کی اجازت نہیں ہوتی، میڈیا سے بات کرنے کے خواہشمند ڈاکٹر اور دیگر افراد اسپتال سے باہر آکر موقف دیں، تمام ڈاکٹرز کو میڈیا سے بات کرنے اور اپنا مؤقف دینے کی اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا اسپتال میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرے، میڈیا کی نشاندہی سے ہی ہمیں مدد ملتی ہے، جناح اسپتال میں ڈاکٹر خالد شیر کو کہہ دیا ہے اب سے وہ میڈیا کو موقف دیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا