نوابشاہ، سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ کا 10فیصد مفت تعلیم پر بڑا ایکشن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نوابشاہ(نمائندہ جسارت )سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ کے اہم اور تاریخی فیصلے کے بعد سندھ بھر کے نجی تعلیمی اداروں میں 10 فیصد مفت تعلیم کی فراہمی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔عدالت نے سندھ کے مختلف ڈویژنز کے ڈائریکٹر پرائیوٹ ایجوکیشن کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اپنے ڈویژنز میں موجود ان تمام نجی اسکولز کی مکمل اور مستند تفصیلات عدالت میں جمع کروائیں جو 10 فیصد مفت تعلیم کے کوٹے پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔86 نجی اسکولوں کی فہرست عدالت میں جمع۔ذرائع کے مطابق شہید بے نظیر آباد ڈویژن کے نوابشاہ شہر میں قائم 86 نجی اسکولز کی تفصیلی فہرست سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں جمع کروا دی گئی ہے، جس کے بعد عدالت نے ان فہرستوں کی شفافیت جانچنے کے لیے محکمہ انسداد بدعنوانی (اینٹی کرپشن) کو باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔عدالتی احکامات کے بعد محکمہ انسداد بدعنوانی نے خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو اس امر کو یقینی بنا رہی ہیں کہ 10 فیصد مفت تعلیم کا کوٹہ صرف مستحق اور اہل طلبا کو ہی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں نوابشاہ کے 10 نجی اسکولز میں طلبا اور والدین سے تفصیلی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ مزید اسکولز کے دورے کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی اسکول میں بدعنوانی، سفارش، کوٹہ کی غلط تقسیم یا غیر شفاف طریقہ کار پایا گیا تو متعلقہ اسکول کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں رجسٹریشن اور لائسنس کی منسوخی کے ساتھ بھاری جرمانے بھی شامل ہوں گے۔عدالتی کارروائی کے بعد نجی تعلیمی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ والدین نے سندھ ہائیکورٹ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے غریب اور مستحق بچوں کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ذرائع کے مطابق بعض نجی اسکول مالکان کی جانب سے محکمہ انسداد بدعنوانی کے ساتھ ساز باز کی شکایات بھی زبان زد عام ہیں، جن کی شفاف تحقیقات کے لیے مزید سخت اقدامات متوقع ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ ہائیکورٹ مفت تعلیم کے بعد
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔