کاراکاس میں ہفتے کی صبح کے اوائل میں دھویں کا کالم دیکھا گیا اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ شہر کے جنوبی حصے میں بجلی غائب تھی۔ یہ علاقہ ایک بڑی فوجی تنصیب کے قریب واقع ہے، لیکن اب تک اس واقعے کی وجوہات اور درست مقامات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

شہریوں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کاراکاس کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی تصاویر دیکھی گئیں، تاہم رائٹرز ان ویڈیوز کی فوری تصدیق نہیں کر سکا۔

????????????????- Scenes from Caracas, the capital of Venezuela.

Smoke plumes are emitting from Fort Tiuna, a major military installation in Caracas. It is reported that 6 smoke columns are seen rising from the area.

– Air raid sirens all throughout Caracas pic.twitter.com/oREe0iKHnZ

— OSINT SPT (@smkycath) January 3, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کے امکانات بارہا ظاہر کیے ہیں۔ وہ عوامی طور پر اپنے اہداف بیان نہیں کرتے، مگر نجی طور پر صدر نیکولس مادورو پر دباؤ ڈال کر انہیں ملک چھوڑنے کا کہہ چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے انہوں نے کہا کہ وینزویلا میں ایسے علاقے پر کارروائی کی گئی جہاں منشیات سے بھرے جہاز موجود تھے، جو امریکی مہمات میں پہلا معلوم زمینی قدم تھا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا وینزویلا تعلقات میں مزید تناؤ، امریکی شہری زیرِ حراست

امریکا نے کیریبین میں بڑی فوجی تعیناتی کی ہے، جس میں ایک طیارہ بردار جہاز، جنگی بحری جہاز اور جدید لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل پر بندش، اضافی پابندیاں اور بحرالکاہل و کیریبین میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث مبینہ جہازوں پر 20 سے زائد حملے بھی کیے ہیں۔

وینزویلا حکومت نے منشیات کی اسمگلنگ میں کسی ملوث ہونے کی تردید کی ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک نے ان امریکی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف