نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) نام نہاد شائننگ بھارت میں جعلی ڈگریوں اور رشوت کے زور پر امریکی H-1B ویزوں کی فروخت کا مکروہ دھندہ سرگرم۔ بھارت دنیابھر میں دہشتگردی ، انسانی جرائم ، دھوکہ دہی اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔

مودی کی بدترین سرکار میں امریکہ میں ملازمتوں کے نام پر جعلی ڈگریوں کا منظم مافیا پورے بھارت میں سرگرم ہے۔ بھارتی جریدہ دی کمیون نے ہوشرُبا انکشافات میں مودی کی نااہلی اور بھارت میں منظم جعلی ڈگریوں کے نیٹ ورکس کا پردہ فاش کر دیا۔

دی کمیون کے مطابق کیرالا پولیس نےمختلف مقامات سے 100 کروڑ روپے کامکروہ دھندا کر نے والے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا۔ دی کمیون نے انکشاف کیا کہ کیرالا سے پکڑا گیا منظم نیٹ ورک پورے بھارت میں 10 لاکھ سے زائد افراد کو جعلی ڈگریاں فراہم کر چکا ہے۔ کیرالا میں فراڈ نیٹ ورک سے22 یونیورسٹیوں کے ایک لاکھ سے زائد سرٹیفکیٹس برآمد ہوئے۔ پولیس چھاپہ کے وقت مرکزی ملزم دھنیش عرف ڈینی گھر پر جعلی ڈگریوں کی پرنٹنگ میں مصروف تھا۔ جعل سازی کا یہ منظم گروہ اندرون اور بیرون ملک ملازمتوں کیلئے بھی لوگوں کو جعلی ڈگریاں فراہم کرتا تھا۔

دی کمیون کے مطابق بھارتی ریاست کیرالا، تامل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، گوا اور دہلی سمیت دیگر ریاستوں میں اسی طرح کےنیٹ ورکس میں سرگرم ہیں۔ پولیس نے منظم نیٹ ورک سے 28 یونیورسٹیوں کے جعلی مہریں اور مارک شیٹس بھی برآمد کیں۔ بھارتی ریاست تامل ناڈو سے بھی بیرونِ ملک نوکری کا جھانسہ دیکر جعلی ڈگریاں دینے والے متعددافرادکو گرفتار کیا گیا۔ بھارتی پولیس کے مطابق منظم گروہ میڈیکل ، نرسنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں سے متعلق 100 سے زائد جعلی ڈگریاں فراہم کر چکا ہے۔

امریکی سینٹر فار امیگریشن سٹڈیز (سی آئی ایس) کی ڈائریکٹرجیسیکاوان نے بھارت میں ویزا جاری کرنے کے عمل کو بڑا فراڈ قراردیدیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا بھجوانے کیلئے بھارت میں 36 ہزار سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت کی گئیں۔

ڈائریکٹر سی آئی ایس کے مطابق بھارت میں یومیہ200 سے زائد “ایچ ون بی ویزا” جاری کئے جا رہے ہیں جن میں 80 سے 90 فیصد مکمل طور پر جعلی ہیں۔ بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند بھارتی افراد ویزا کے حصول کیلئے جعلی کوائف اور اسناد کا اندراج کراتے ہیں اور اس کیلئے بھاری رشوت دیتے ہیں۔ جعلی ویزا کے اس سارے عمل کو بھارتی سیاست دانوں کی پشت پناہی اور سہولت کاری حاصل ہے۔

ڈائریکٹر سی آئی ایس کا کہنا ہے کہ بھارت میں تعینات امریکی سفارت کارمہوش صدیقی بھی “ایچ ون بی” ویزا فراڈ کوآشکار کر چکی ہیں۔ امریکی “ایچ ون بی ویزا” کیلئے بھارت میں دھوکہ دہی اور فراڈ کا براہ راست مشاہدہ کیاہے۔ بھارت میں جعلی ڈگریاں، جعلی بینک اسٹیٹمنٹس اور جعلی شادی یا پیدائش کے سرٹیفکیٹس فروخت کیے جاتے ہیں۔ بھارتی شہری فقط ڈگری رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگرحقیقت میں انہیں ڈگری سے متعلق کوئی علم نہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی نژاد امریکی سفارتکار مہوش صدیقی نے بھی بھارتی ریاست چنئی قونصل خانہ کودنیا کا سب سے بڑا H-1B ویزافراڈکا مرکز قرار دیدیا۔ بھارتی شہری H-1B ویزا کے حصول کیلئے بھاری رشوت تک دیتے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جعلی ڈگری کی قیمت 1,400 ڈالر تک رکھی گئی ہے اور اب تک 36,025 جعلی ڈگریاں فروخت ہو چکی ہیں۔

ویزا پروگرام H-1B کے آڈٹ 2008 میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے تھے کہ منظور شدہ ویزوں میں سے 13 فیصد سے زائد فراڈ پر مبنی تھے۔ امریکی سینٹر آف امیگریشن آف اسٹیڈیز کے انکشافات سے واضح ہے کہ بھارتیH-1Bویزا نظام مکمل جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مشتمل ہے۔ بھارت اور اسکی نااہل سرکار کامصنوعی شائیننگ انڈیا کا نام نہاد پروپیگنڈا عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جعلی ڈگریاں جعلی ڈگریوں بھارت میں دی کمیون کے مطابق چکا ہے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود