بھارتی قونصل خانوں میں جعلی ڈگریوں کے حامل نوجوانوں کو امریکی H-1B ویزہ دینے کے ہوشرُبا انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) نام نہاد شائننگ بھارت میں جعلی ڈگریوں اور رشوت کے زور پر امریکی H-1B ویزوں کی فروخت کا مکروہ دھندہ سرگرم۔ بھارت دنیابھر میں دہشتگردی ، انسانی جرائم ، دھوکہ دہی اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔
مودی کی بدترین سرکار میں امریکہ میں ملازمتوں کے نام پر جعلی ڈگریوں کا منظم مافیا پورے بھارت میں سرگرم ہے۔ بھارتی جریدہ دی کمیون نے ہوشرُبا انکشافات میں مودی کی نااہلی اور بھارت میں منظم جعلی ڈگریوں کے نیٹ ورکس کا پردہ فاش کر دیا۔
دی کمیون کے مطابق کیرالا پولیس نےمختلف مقامات سے 100 کروڑ روپے کامکروہ دھندا کر نے والے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا۔ دی کمیون نے انکشاف کیا کہ کیرالا سے پکڑا گیا منظم نیٹ ورک پورے بھارت میں 10 لاکھ سے زائد افراد کو جعلی ڈگریاں فراہم کر چکا ہے۔ کیرالا میں فراڈ نیٹ ورک سے22 یونیورسٹیوں کے ایک لاکھ سے زائد سرٹیفکیٹس برآمد ہوئے۔ پولیس چھاپہ کے وقت مرکزی ملزم دھنیش عرف ڈینی گھر پر جعلی ڈگریوں کی پرنٹنگ میں مصروف تھا۔ جعل سازی کا یہ منظم گروہ اندرون اور بیرون ملک ملازمتوں کیلئے بھی لوگوں کو جعلی ڈگریاں فراہم کرتا تھا۔
دی کمیون کے مطابق بھارتی ریاست کیرالا، تامل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، گوا اور دہلی سمیت دیگر ریاستوں میں اسی طرح کےنیٹ ورکس میں سرگرم ہیں۔ پولیس نے منظم نیٹ ورک سے 28 یونیورسٹیوں کے جعلی مہریں اور مارک شیٹس بھی برآمد کیں۔ بھارتی ریاست تامل ناڈو سے بھی بیرونِ ملک نوکری کا جھانسہ دیکر جعلی ڈگریاں دینے والے متعددافرادکو گرفتار کیا گیا۔ بھارتی پولیس کے مطابق منظم گروہ میڈیکل ، نرسنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں سے متعلق 100 سے زائد جعلی ڈگریاں فراہم کر چکا ہے۔
امریکی سینٹر فار امیگریشن سٹڈیز (سی آئی ایس) کی ڈائریکٹرجیسیکاوان نے بھارت میں ویزا جاری کرنے کے عمل کو بڑا فراڈ قراردیدیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا بھجوانے کیلئے بھارت میں 36 ہزار سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت کی گئیں۔
ڈائریکٹر سی آئی ایس کے مطابق بھارت میں یومیہ200 سے زائد “ایچ ون بی ویزا” جاری کئے جا رہے ہیں جن میں 80 سے 90 فیصد مکمل طور پر جعلی ہیں۔ بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند بھارتی افراد ویزا کے حصول کیلئے جعلی کوائف اور اسناد کا اندراج کراتے ہیں اور اس کیلئے بھاری رشوت دیتے ہیں۔ جعلی ویزا کے اس سارے عمل کو بھارتی سیاست دانوں کی پشت پناہی اور سہولت کاری حاصل ہے۔
ڈائریکٹر سی آئی ایس کا کہنا ہے کہ بھارت میں تعینات امریکی سفارت کارمہوش صدیقی بھی “ایچ ون بی” ویزا فراڈ کوآشکار کر چکی ہیں۔ امریکی “ایچ ون بی ویزا” کیلئے بھارت میں دھوکہ دہی اور فراڈ کا براہ راست مشاہدہ کیاہے۔ بھارت میں جعلی ڈگریاں، جعلی بینک اسٹیٹمنٹس اور جعلی شادی یا پیدائش کے سرٹیفکیٹس فروخت کیے جاتے ہیں۔ بھارتی شہری فقط ڈگری رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگرحقیقت میں انہیں ڈگری سے متعلق کوئی علم نہیں۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی نژاد امریکی سفارتکار مہوش صدیقی نے بھی بھارتی ریاست چنئی قونصل خانہ کودنیا کا سب سے بڑا H-1B ویزافراڈکا مرکز قرار دیدیا۔ بھارتی شہری H-1B ویزا کے حصول کیلئے بھاری رشوت تک دیتے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جعلی ڈگری کی قیمت 1,400 ڈالر تک رکھی گئی ہے اور اب تک 36,025 جعلی ڈگریاں فروخت ہو چکی ہیں۔
ویزا پروگرام H-1B کے آڈٹ 2008 میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے تھے کہ منظور شدہ ویزوں میں سے 13 فیصد سے زائد فراڈ پر مبنی تھے۔ امریکی سینٹر آف امیگریشن آف اسٹیڈیز کے انکشافات سے واضح ہے کہ بھارتیH-1Bویزا نظام مکمل جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مشتمل ہے۔ بھارت اور اسکی نااہل سرکار کامصنوعی شائیننگ انڈیا کا نام نہاد پروپیگنڈا عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جعلی ڈگریاں جعلی ڈگریوں بھارت میں دی کمیون کے مطابق چکا ہے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔