نائب وزیراعظم اسحاق ڈار چین روانہ، پاکستان چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں شریک ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار چین روانہ ہو گئے ہیں تاکہ وہ 4 جنوری 2026 کو بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ہمراہ ساتویں پاکستان چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کریں۔
چین کا پہلا اعلیٰ سطحی دورہمحمد اسحاق ڈار چین کے پہلے اعلیٰ سطحی مہمان ہیں جو 2026 میں چین کا دورہ کر رہے ہیں، اور یہ دعوت چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی جانب سے دی گئی ہے۔
ڈائیلاگ کا ایجنڈااس اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا، نئے شراکت داری کے مواقع تلاش کیے جائیں گے، اور پاکستان اور چین کے درمیان ’تمام موسموں کے اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری‘ کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششیہ اجلاس پاکستان اور چین کے دیرینہ دوستانہ تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر خطے میں استحکام اور ترقی کے حوالے سے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار کا دورہ چین ساتواں پاکستان چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار کا دورہ چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ اسحاق ڈار
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔