قومی سلامتی خدشات: ٹرمپ انتظامیہ نے چِپ ڈیل روک دی، چینی روابط پر اعتراض
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے قومی سلامتی اور چین سے ممکنہ روابط کے خدشات کے باعث ایک اہم ٹیکنالوجی معاہدہ روک دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکم کے تحت امریکی فوٹونکس کمپنی ہیفو کارپوریشن کو نیو جرسی کی دفاعی و ایرو اسپیس فرم ایمکور کے اثاثے خریدنے سے روک دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کمپیوٹر چپ کی تیاری: چین 2025 میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کے لیے پُرعزم
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ فیصلے میں امریکی فوٹونکس کمپنی ہیفو کارپوریشن کو ایمکور کے تقریباً 30 لاکھ ڈالر مالیت کے اثاثے حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ قومی سلامتی اور چین کے ممکنہ اثر و رسوخ کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہیفو کارپوریشن میں ایک ایسا فرد شامل ہے جو عوامی جمہوریہ چین کا شہری ہے، جس کے باعث اس معاہدے کو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی ملکیت حساس ٹیکنالوجی تک غیر محفوظ رسائی کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:توانائی کے صاف اور قابلِ تجدید ذرائع کا استعمال، چین امریکا پر بازی لے گیا
حکم نامے کے مطابق ہیفو کو ایمکور کے تمام اثاثوں اور حقوق سے 180 دن کے اندر دستبردار ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم حکم میں کسی مخصوص فرد یا خطرے کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
یہ قومی سلامتی سے متعلق خدشات امریکی ادارے کمیٹی آن فارن انویسٹمنٹ اِن دی یونائیٹڈ اسٹیٹس (CFIUS) نے شناخت کیے، تاہم بیان میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ خطرے کی نوعیت کیا ہے۔
ایمکور کے مطابق ہیفو نے 2024 میں کمپنی کے انڈیم فاسفائیڈ ویفر فیبریکیشن آپریشنز اور چِپس بزنس کو 29 لاکھ 20 ہزار ڈالر میں خریدا تھا۔ ہیفو کے بانی جنزاؤ ژانگ اور ہیری مور ہیں، تاہم کمپنی نے تاحال صدر ٹرمپ کے فیصلے پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا چپ ڈیل چین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز