وزیراعظم کی تیمور ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر قوم کو مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان فضائیہ کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر قوم کو مبارکباد دی ہے۔
شہباز شریف نے کامیاب تجربے پر پاک فضائیہ کو مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور میزائل سسٹم پر کام کرنے والے سائنسدانوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند، الرٹ جاری
وزیراعظم نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے پاک فضائیہ کی پیشہ مہارت، لگن اور غیر متزلزل عزم کی پذیرائی کی۔ انہوں نے کہا کہ تیمور ویپن سسٹم کی بدولت ملک کا دفاع مزید مستحکم ہو گا، کامیاب فلائٹ ٹیسٹ پاکستان کی دفاعی صنعت کی تکنیکی پختگی، جدت اور خود انحصاری کی نشاندہی کرتا ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ تیمور ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری، تکنیکی برتری اور قومی سلامتی کے مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے ۔
پاکستان نے ہمیشہ عالمی امن و استحکام میں اپنا کردار ادا کیا: پاکستانی سفیر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: تیمور ویپن سسٹم
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔