کشمیری طلبہ اور تاجروں کے تحفظ کیلئے سخت قانون بنایا جائے، اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں خصوصاً ہماچل پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، دہلی اور مہاراشٹر میں کشمیری تاجروں اور طلبہ کو مسلسل دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھارت کے مختلف حصوں میں کشمیری طلبہ اور کشمیری شال فروخت کرنے والے تاجروں کے خلاف ہراسانی، تشدد اور امتیازی سلوک کے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے قومی انسانی حقوق کمیشن کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے اور متاثرین کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کئے جائیں۔
اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں خصوصاً ہماچل پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، دہلی اور مہاراشٹر میں کشمیری تاجروں اور طلبہ کو مسلسل دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران درجن سے زائد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جو کسی منظم رویے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کشمیری شال فروش کئی دہائیوں سے پرامن طریقے سے اپنا روزگار چلا رہے تھے، مگر اب انہیں روکنا، ان کے سامان کو نقصان پہنچانا اور بعض مقامات پر لوٹ مار جیسے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
مکتوب میں ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کھویہامی نے لکھا ہے کہ کئی معاملات میں کشمیری تاجروں کو مخصوص نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا اور انکار کی صورت میں انہیں ہراساں کیا گیا۔ بعض واقعات میں موبائل فون توڑ دئے گئے جب متاثرین نے ویڈیو بنانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین کسی شہری کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے زبردستی نعرے لگانے پر مجبور کرنے کی اجازت نہیں دیتا، کیونکہ حب الوطنی جبر سے نہیں بلکہ آزادی اور مساوات سے جنم لیتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے خط میں مختلف اضلاع اور شہروں کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک کشمیری طالبہ کو دہلی میں صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر کرائے کا مکان نہیں دیا گیا اور اس کے سامنے غیر مناسب شرط رکھی گئی، جبکہ ممبئی میں ایک طالب علم کو مبینہ طور پر پاکستانی کہہ کر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تنظیم کے مطابق سال دو ہزار پچیس کے دوران ہماچل پردیش میں ہی سترہ سے زیادہ ایسے واقعات رپورٹ ہوئے، مگر ریاستی سطح پر کوئی مضبوط کارروائی نظر نہیں آئی۔
اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے زور دیا ہے کہ کشمیری ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں اور انہیں بھی وہی حقوق اور تحفظ ملنا چاہیئے جو دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے حالات نہ صرف متاثرین کی روزی روٹی اور تعلیم کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ اسی لیے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ ریاستوں سے تفصیلی رپورٹس طلب کی جائیں، ذمہ داری طے کی جائے اور کشمیری طلبہ و تاجروں کے تحفظ کے لئے سخت قوانین نافذ کئے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ایسوسی ایشن نے
پڑھیں:
ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ چاہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لیے یہ ملنے نہیں دے رہے، مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو کم از کم فیملی کو ملنے دیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سےمطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہوگا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو بدل نہیں سکتی۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیراعلیٰ رہوں گا، کے پی میں ہماری حکومت فقط بانی چیئرمین ہی ختم کرسکتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ کے پی میں فارورڈ بلاک پروپیگنڈا ہے، جو اس لیے کیا گیا کہ وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کرالیا ہے، ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، کے پی حکومت عوام دوست بجٹ پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہمارا سارا فوکس صحت، تعلیم، زراعت، نوجوان اور جنگلات پر ہے، ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لارہے ہیں۔