Juraat:
2026-06-03@00:53:18 GMT

دانشوری کی نامعقولیت

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

دانشوری کی نامعقولیت

بے نقاب /ایم آر ملک

تاریخ کیا ہے؟ کیا یہ ایک سائنس ہے؟ اگر یہ ایک سائنس ہے تو یہ کن قوانین کے تحت اور کس منزل کی طرف رواں دواں ہے؟ عقلِ سلیم کے لیے یہ ایک معمہ ہے، ایک گورکھ دھندہ، ایک کبھی نہ حل ہونے والی پہیلی ۔ 78برسوں سے جعلی تشفی کے لیے یہ آسان سا جواب گھڑ لیا گیا کہ اب تک جو ، جب اور جیسے ہوتا آیا ہے ، عین ویسے ہی ہونا طے پایا تھا۔ یہاں تک کہ آئندہ بھی اٹل اور معینہ ہے۔
بڑا مشہور مقولہ ہے کہ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ فارمولے بنانا اور حقیقت کو ان فارمولوں کی عینک سے دیکھنا رسمی منطق کی پرانی عادت رہی ہے اور محض خیال پرست ہی نہیں بلکہ بہت سے خود ساختہ مادیت پسند بھی اس عادت کے ہاتھوں برباد ہوتے اور دوسروں کو کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ معمہ کب کا حل ہو چکا، یہ گتھی کب کی سلجھ بھی چکی ہوتی۔ تمام مروجہ کلئے اور فارمولے اپنی افادیت کھو چکے اور ان کلیوں کے فروخت کنندگان78برسوں سے اپنی دکان بچانے کے لیے گتھی کو اور الجھاتے چلے جا رہے ہیں۔آج بھی وہی روش ہے ،ایئر مارشل اصغر خان یہ نعرہ لیکر چلے چہرے نہیں نظام کو بدلو ،لوٹ کھسوٹ کے راج کو بدلو ،چہرے بدلتے رہے ،نہ تو نظام بدلا اور نہ ہی لوٹ کھسوٹ کا راج بدلا ،جی ہاں مختلف خطوں اور ادوار میں مختلف واقعات کی تکرار سے وہ عمومی اصول اور قوانین وضع کیے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر آئندہ کے واقعات کے خدو خال مرتب ہوتے ہیں، روایتی فارمولوں کی شکل میں نہیں متحرک اور متغیر عوامل کے زیر اثر ۔
انقلاب روس کی تاریخ کے پیش لفظ میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ واقعات کو کبھی بھی مہم جوئیوں کے ایک سلسلے کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی پہلے سے متعین نتائج کی کھونٹی پر لٹکا یا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے ہی قوانین کے پابند ہوتے ہیں۔ اور انہی قوانین کو دریافت کرنا مورخ کی ذمہ داری ہے ۔ ہم آج تک من گھڑت فارمولوں کی قید سے آزادی کے خواہاں ہیں سماجی اور تاریخی آزادی ، انسانیت کی آبرومندانہ آزادی ، سماجی ترقی کے عمومی اصولوں کی کھوج کو عملی جامہ پہنا کر انسانی شعور اور حسیات میں انقلاب برپا کر نے کی آزادی ۔اس آبرومندانہ آزادی کا خلاصہ ہمارے عظیم مجاہد علامہ عنایت اللہ المشرقی کے اس نظریہ میں سمویا ہوا ہے کہ الیکشن طبقاتی بنیادوں پر ہوں امیر کا ووٹ امیر کے امیدوار کو اور غریب کا ووٹ غریب کے امیدوار کو ،یعنی تمام معلوم تاریخ طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے اور انقلابات تاریخ کے انجن ہوتے ہیں۔
لفظ انقلاب کے ساتھ جتنی نا انصافی ہوئی ہے شاید ہی لغت میں کسی اور لفظ کے ساتھ ہوئی ہو۔ماضی میں شہباز شریف حبیب جالب کے اشعار پڑھ کر انقلاب کا مذاق اُڑاتے رہے یعنی لفظ ”انقلاب ”کو جتنا زیادہ برتا گیا ہے اتنا ہی کم سمجھا گیا ہے ۔ انقلاب کو ایک فیشن بنا لیا گیا۔ انقلابی ہونے کا دکھاوا کیا گیا مطلب یہ کہ کچھ بھی الٹا سیدھا ہو جائے اس پر انقلاب کا لیبل لگا دیا جائے اور اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب واقعی انقلاب ہوتا ہے تو اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔
عرب بہار اور پاکستان میں 68,69ء سمیت تمام انقلابات کو یا تو سازشی تھیوریوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے یا پھر انکے ادھورے پن کو طنز و دشنام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دراصل ہر واقعہ انقلاب نہیں ہوتا اور انقلابات ہر جگہ اور ہر وقت وقوع پذیر نہیں ہو رہے ہوتے اور نہ ہی ہمیشہ انکی ضرورت محسوس کی جا رہی ہوتی ہے۔ عموماً برسوں اور عشروں پر محیط ایک سماجی معمول انسانی اعصاب کو سہل پسند اور صبر طلب بنا دیتا ہے۔ پھر وہی سماجی معمول مہلک اور نا قابل برداشت ہوتا چلا جاتا ہے اور آخر کار انقلاب کی ضرورت محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کا اظہار مختلف چھوٹے چھوٹے واقعات میں ہو رہا ہوتا ہے۔ ان واقعات کا ایک نا ہموار بہائو ایک بڑے سماجی دھماکے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں استحصال زدہ عوام کی اکثریت براہ راست شمولیت اختیار کر لیتی ہے۔ محنت کش عوام کی بھی براہ راست شمولیت ہی وہ کسوٹی ہے جس پر واقعات کے کردار کو پرکھا جاسکتا ہے اور حقیقی انقلاب میں تمیز کی جاسکتی ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر انقلاب اپنے تاریخی مقاصد حاصل کرپائے لیکن وہ اس مقداری اضافے کا باعث ضرور بنتا ہے جو آگے چل کر ایک معیاری تبدیلی کو جنم دے سکے یعنی ہر انقلاب سماج میں ملکیتی اور پیداواری رشتوں کو تبدیل نہیں کر پاتا لیکن ایک فیصلہ کن تبدیلی کیلئے ہر انقلاب کا ایک لازمی اور ضروری کردار ہوتا ہے ،انقلاب ایسا عمل ہے جس میں کسی ایک عنصر کی عدم موجودگی تعطل کا باعث بن جاتی ہے ، تاریخ بہت کفایت شعار ہوتی ہے ،کبھی بھی وقت ضائع نہیں کرتی وہ اگر کہیں ایک انقلاب کو زائل کر رہی ہوتی ہے ،تو کہیں کسی اور انقلاب کی تیاری کر رہی ہوتی ہے ،انقلابات کی منازل طے کرنے کے بعد اکتوبر انقلاب بالآخر اکثریت کے ذریعے اکثریت کے لیے اکثریت کا اقتدار جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ،کیا ہم اسی نہج پر نہیں کھڑے جہاں ایک حتمی فتح یا شکست کا اعلان ہونے والا ہے ،مگرسہیل وڑائچ ، انصار عباسی جیسے حکومتی دانشور شاید ان محرکات کی تشریح کرنے سے قاصر ہیں ،اپنے روحانی افلاس اور نااہلیت سے فرار حاصل کرنے کیلئے پرانے مجرد فارمولوں میں پناہ لینے کی کوشش میں ہیں ، طوفانی دقیانوسی کی انتہا کی جارہی ہے لیکن تاریخ ایسی نامعقولیت کو بے نقاب کرتی رہی ہے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: جاتا ہے ہوتی ہے کے لیے ہے اور اور ان

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی