بے نقاب /ایم آر ملک
تاریخ کیا ہے؟ کیا یہ ایک سائنس ہے؟ اگر یہ ایک سائنس ہے تو یہ کن قوانین کے تحت اور کس منزل کی طرف رواں دواں ہے؟ عقلِ سلیم کے لیے یہ ایک معمہ ہے، ایک گورکھ دھندہ، ایک کبھی نہ حل ہونے والی پہیلی ۔ 78برسوں سے جعلی تشفی کے لیے یہ آسان سا جواب گھڑ لیا گیا کہ اب تک جو ، جب اور جیسے ہوتا آیا ہے ، عین ویسے ہی ہونا طے پایا تھا۔ یہاں تک کہ آئندہ بھی اٹل اور معینہ ہے۔
بڑا مشہور مقولہ ہے کہ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ فارمولے بنانا اور حقیقت کو ان فارمولوں کی عینک سے دیکھنا رسمی منطق کی پرانی عادت رہی ہے اور محض خیال پرست ہی نہیں بلکہ بہت سے خود ساختہ مادیت پسند بھی اس عادت کے ہاتھوں برباد ہوتے اور دوسروں کو کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ معمہ کب کا حل ہو چکا، یہ گتھی کب کی سلجھ بھی چکی ہوتی۔ تمام مروجہ کلئے اور فارمولے اپنی افادیت کھو چکے اور ان کلیوں کے فروخت کنندگان78برسوں سے اپنی دکان بچانے کے لیے گتھی کو اور الجھاتے چلے جا رہے ہیں۔آج بھی وہی روش ہے ،ایئر مارشل اصغر خان یہ نعرہ لیکر چلے چہرے نہیں نظام کو بدلو ،لوٹ کھسوٹ کے راج کو بدلو ،چہرے بدلتے رہے ،نہ تو نظام بدلا اور نہ ہی لوٹ کھسوٹ کا راج بدلا ،جی ہاں مختلف خطوں اور ادوار میں مختلف واقعات کی تکرار سے وہ عمومی اصول اور قوانین وضع کیے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر آئندہ کے واقعات کے خدو خال مرتب ہوتے ہیں، روایتی فارمولوں کی شکل میں نہیں متحرک اور متغیر عوامل کے زیر اثر ۔
انقلاب روس کی تاریخ کے پیش لفظ میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ واقعات کو کبھی بھی مہم جوئیوں کے ایک سلسلے کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی پہلے سے متعین نتائج کی کھونٹی پر لٹکا یا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے ہی قوانین کے پابند ہوتے ہیں۔ اور انہی قوانین کو دریافت کرنا مورخ کی ذمہ داری ہے ۔ ہم آج تک من گھڑت فارمولوں کی قید سے آزادی کے خواہاں ہیں سماجی اور تاریخی آزادی ، انسانیت کی آبرومندانہ آزادی ، سماجی ترقی کے عمومی اصولوں کی کھوج کو عملی جامہ پہنا کر انسانی شعور اور حسیات میں انقلاب برپا کر نے کی آزادی ۔اس آبرومندانہ آزادی کا خلاصہ ہمارے عظیم مجاہد علامہ عنایت اللہ المشرقی کے اس نظریہ میں سمویا ہوا ہے کہ الیکشن طبقاتی بنیادوں پر ہوں امیر کا ووٹ امیر کے امیدوار کو اور غریب کا ووٹ غریب کے امیدوار کو ،یعنی تمام معلوم تاریخ طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے اور انقلابات تاریخ کے انجن ہوتے ہیں۔
لفظ انقلاب کے ساتھ جتنی نا انصافی ہوئی ہے شاید ہی لغت میں کسی اور لفظ کے ساتھ ہوئی ہو۔ماضی میں شہباز شریف حبیب جالب کے اشعار پڑھ کر انقلاب کا مذاق اُڑاتے رہے یعنی لفظ ”انقلاب ”کو جتنا زیادہ برتا گیا ہے اتنا ہی کم سمجھا گیا ہے ۔ انقلاب کو ایک فیشن بنا لیا گیا۔ انقلابی ہونے کا دکھاوا کیا گیا مطلب یہ کہ کچھ بھی الٹا سیدھا ہو جائے اس پر انقلاب کا لیبل لگا دیا جائے اور اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب واقعی انقلاب ہوتا ہے تو اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔
عرب بہار اور پاکستان میں 68,69ء سمیت تمام انقلابات کو یا تو سازشی تھیوریوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے یا پھر انکے ادھورے پن کو طنز و دشنام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دراصل ہر واقعہ انقلاب نہیں ہوتا اور انقلابات ہر جگہ اور ہر وقت وقوع پذیر نہیں ہو رہے ہوتے اور نہ ہی ہمیشہ انکی ضرورت محسوس کی جا رہی ہوتی ہے۔ عموماً برسوں اور عشروں پر محیط ایک سماجی معمول انسانی اعصاب کو سہل پسند اور صبر طلب بنا دیتا ہے۔ پھر وہی سماجی معمول مہلک اور نا قابل برداشت ہوتا چلا جاتا ہے اور آخر کار انقلاب کی ضرورت محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کا اظہار مختلف چھوٹے چھوٹے واقعات میں ہو رہا ہوتا ہے۔ ان واقعات کا ایک نا ہموار بہائو ایک بڑے سماجی دھماکے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں استحصال زدہ عوام کی اکثریت براہ راست شمولیت اختیار کر لیتی ہے۔ محنت کش عوام کی بھی براہ راست شمولیت ہی وہ کسوٹی ہے جس پر واقعات کے کردار کو پرکھا جاسکتا ہے اور حقیقی انقلاب میں تمیز کی جاسکتی ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر انقلاب اپنے تاریخی مقاصد حاصل کرپائے لیکن وہ اس مقداری اضافے کا باعث ضرور بنتا ہے جو آگے چل کر ایک معیاری تبدیلی کو جنم دے سکے یعنی ہر انقلاب سماج میں ملکیتی اور پیداواری رشتوں کو تبدیل نہیں کر پاتا لیکن ایک فیصلہ کن تبدیلی کیلئے ہر انقلاب کا ایک لازمی اور ضروری کردار ہوتا ہے ،انقلاب ایسا عمل ہے جس میں کسی ایک عنصر کی عدم موجودگی تعطل کا باعث بن جاتی ہے ، تاریخ بہت کفایت شعار ہوتی ہے ،کبھی بھی وقت ضائع نہیں کرتی وہ اگر کہیں ایک انقلاب کو زائل کر رہی ہوتی ہے ،تو کہیں کسی اور انقلاب کی تیاری کر رہی ہوتی ہے ،انقلابات کی منازل طے کرنے کے بعد اکتوبر انقلاب بالآخر اکثریت کے ذریعے اکثریت کے لیے اکثریت کا اقتدار جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ،کیا ہم اسی نہج پر نہیں کھڑے جہاں ایک حتمی فتح یا شکست کا اعلان ہونے والا ہے ،مگرسہیل وڑائچ ، انصار عباسی جیسے حکومتی دانشور شاید ان محرکات کی تشریح کرنے سے قاصر ہیں ،اپنے روحانی افلاس اور نااہلیت سے فرار حاصل کرنے کیلئے پرانے مجرد فارمولوں میں پناہ لینے کی کوشش میں ہیں ، طوفانی دقیانوسی کی انتہا کی جارہی ہے لیکن تاریخ ایسی نامعقولیت کو بے نقاب کرتی رہی ہے ۔
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جاتا ہے ہوتی ہے کے لیے ہے اور اور ان
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔