بھارت دہشتگردی میں اپنے کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ایک بار پھر اپنی دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام میں کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ خطے میں دہشت گردی کے فروغ میں بھارت کا کردار واضح ہے، بھارتی الزامات غیر ذمہ دارانہ ہیں، بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ پاکستان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی واضح مثال ہے، بھارت پر بیرون ملک ٹارگٹ کلنگز، تخریب کاری اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی معاونت کے سنگین الزامات ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ محمد اخلاق لنچنگ کیس میں مجرموں کو بچانے کی کوششیں کی گئی، ان واقعات نے بھارت میں مسلمانوں میں خوف اور عدم تحفظ بڑھادیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہندوتوا نظریہ انتہاپسندی اور تشدد کو فروغ دیتا ہے، بھارت کا مقبوضہ جموں وکشمیر میں غیرقانونی اور جابرانہ فوجی قبضہ برقرار ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ خلاف ورزی خطے کے استحکام کو نقصان پہنچائے گی، سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ نے کہا کہ
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔