بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید عمر خالد کے نام نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا خط وائرل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے نو منتخب اور پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی کی جانب سے بھارت کے معروف سیاسی کارکن عمر خالد کے نام لکھا گیا ایک خط سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس پر بڑے پیمانے پر تبصرے اور ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔
یہ خط عمر خالد کی ایک دوست بانوجیوتسنا لہری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا، جس کے ساتھ ان کی رہائی کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
عمر خالد کون ہیں؟عمر خالد بھارت میں مسلمانوں کی ایک نمایاں تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس کے بیٹے ہیں۔
انہیں گزشتہ تقریباً 5 برسوں سے بغیر باقاعدہ مقدمہ چلائے مختلف الزامات کے تحت دہلی کی تہاڑ جیل میں قید رکھا گیا ہے۔
خط میں کیا لکھا گیا؟یہ خط ظہران ممدانی نے اپنے ہاتھ سے ایک سادہ کاغذ پر تحریر کیا ہے، جس پر کوئی تاریخ درج نہیں۔
34 سالہ ممدانی نے اپنے مختصر مگر معنی خیز پیغام میں لکھا:
’پیارے عمر، میں اکثر آپ کی اس بات کے بارے میں سوچتا ہوں جو آپ نے تلخی کے اثرات اور اس کے زیرِ اثر نہ آنے کی اہمیت کے بارے میں کہی تھی۔ آپ کے والدین سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ہم سب آپ کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘
New York Mayor Zohran Mamdani has written a letter to former Jawaharlal Nehru University student and activist Umar Khalid, who remains lodged in Delhi’s Tihar Jail under India’s stringent Unlawful Activities (Prevention) Act.
The letter surfaced on social media on Thursday, the… pic.twitter.com/xeHS5jN06p
— IndiaToday (@IndiaToday) January 2, 2026
ملاقات کا پس منظرعمر خالد کے والد سید قاسم رسول الیاس نے دسمبر کے اوائل میں اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے امریکا کا دورہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسی دورے کے دوران ان کی ملاقات ظہران ممدانی سے ہوئی، جس کے بعد یہ خط لکھا گیا۔
ظہران ممدانی: پس منظر اور سیاسی مؤقفظہران ممدانی معروف فلمساز میرا نائر اور عالمی شہرت یافتہ ماہرِ تعلیم محمود ممدانی کے بیٹے ہیں۔
انہوں نے یکم جنوری کو نیویارک کے میئر کا عہدہ سنبھالا اور خود کو ایک جمہوری سوشلسٹ قرار دیتے ہوئے انصاف، مساوات اور شہری حقوق کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
عمر خالد کو ستمبر 2020 میں دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ دہلی میں مذہبی بنیادوں پر ہونے والے فسادات کو بھڑکانے کی مبینہ سازش میں شامل تھے۔
انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت جیل میں بند کیا گیا، اور تب سے وہ تہاڑ جیل میں قید ہیں۔
حال ہی میں دہلی کی ایک عدالت نے عمر خالد کو 27 دسمبر کو اپنی بہن عائشہ فاطمہ سیدہ کی شادی میں شرکت کے لیے عبوری ضمانت دی تھی، تاہم 29 دسمبر کو انہیں دوبارہ جیل واپس بھیج دیا گیا۔
شہریت قانون کے خلاف احتجاجعمر خالد بھارت کی موجودہ ہندو قوم پرست حکومت کی جانب سے منظور کردہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف ہونے والے احتجاج میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
یہ قانون پڑوسی ممالک سے آنے والے غیر مسلم افراد کو شہریت دینے کی بات کرتا ہے، جبکہ مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
دہلی پولیس کا الزام ہے کہ عمر خالد شمال مشرقی دہلی میں 2020 میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی سازش میں ملوث تھے، جن میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلا نے ان کی ضمانت کی کوششیں کیں، تاہم دہلی کی عدالت، دہلی ہائیکورٹ اور بعد ازاں نچلی عدالتوں نے ان کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
اس وقت ان کی اپیل سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیرِ سماعت ہے۔
ظہران ممدانی کا خط ایک بار پھر عمر خالد کی طویل حراست اور بھارت میں اختلافی آوازوں کے خلاف کارروائیوں پر عالمی توجہ مبذول کرا رہا ہے، اور سوشل میڈیا پر ان کی فوری رہائی کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔
جب ممدانی نے نیویارک میں وزیرِاعظم مودی کے دورے سے قبل عمر خالد کا خط پڑھاواضح رہے کہ نیویارک کی میئرشپ کے لیے انتخابی مہم کے دوران بھی ظہران ممدانی کے ماضی کے بیانات اور تقاریر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہیں، جو بھارتی سیاست اور انسانی حقوق سے متعلق تھے۔
وائرل ویڈیوز میں ایک ویڈیو خاص طور پر نمایاں ہے، جس میں ممدانی بھارت میں قید طالب علم رہنما اور سماجی کارکن عمر خالد کی تحریر پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ خطاب 2023 میں وزیرِاعظم نریندر مودی کے نیویارک کے دورے سے قبل کیا گیا تھا، اس وقت ممدانی نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن تھے۔
خطاب کے دوران ممدانی نے کہا ’میں عمر خالد کا خط پڑھنے جا رہا ہوں، جو دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور اسکالر ہیں۔ انہوں نے لنچنگ اور نفرت کے خلاف ایک مہم منظم کی۔ وہ ایک ہزار دن سے زائد عرصے سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت جیل میں ہیں، بغیر کسی مقدمے کے، اور ان کی ضمانت بار بار مسترد کی جا چکی ہے۔ ان پر قاتلانہ حملے کی کوشش بھی ہو چکی ہے۔‘
یہ خطاب ایک بھرے ہوئے ہال میں دیا گیا، جسے حاضرین کی جانب سے خاصی توجہ ملی تھی۔
ممدانی نے ایک دوسری تقریب کے دوران بھارتی وزیرِاعظم مودی کا تقابل اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے کیا تھا۔ گجراتی نژاد ہونے کے باوجود ممدانی کا کہنا ہے کہ وہ انسانی حقوق، انصاف اور جمہوری اقدار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، چاہے تنقید کسی بھی عالمی رہنما پر کیوں نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عمر خالد کی سوشل میڈیا نیویارک کے کے دوران کے خلاف دہلی کی جیل میں کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔