data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سردیوں کے موسم میں سینے میں بھاری پن یا دباؤ کو عموماً لوگ سردی کا سادہ اثر سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، تاہم طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ کیفیت بعض اوقات پھیپھڑوں، دل یا ذہنی دباؤ سے جڑے سنجیدہ مسائل کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

سرد موسم میں خشک اور ٹھنڈی ہوا، فضائی آلودگی میں اضافہ اور سانس کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے کیسز اس مسئلے کو مزید شدت دے دیتے ہیں، جس کے باعث سانس لینے میں دشواری اور سینے پر وزن یا جکڑن محسوس ہونا عام ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سینے میں دباؤ کا تعلق ہمیشہ پھیپھڑوں سے نہیں ہوتا بلکہ دل کی بیماریاں، انزائٹی یا ذہنی تناؤ، سینے کے پٹھوں کا کھچاؤ اور ہاضمے کے مسائل جیسے ایسڈ ریفلکس بھی یہی کیفیت پیدا کر سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سردیوں میں انفیکشنز اور آلودگی بڑھنے کے باعث بزرگ افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جبکہ سگریٹ نوش افراد میں بھی پھیپھڑوں کی حساسیت بڑھ جاتی ہے۔

طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر سینے میں بھاری پن کے ساتھ سانس لینے میں دشواری، چکر آنا، غیر معمولی پسینہ، متلی یا بازو، گردن اور جبڑے میں درد محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ یہ علامات دل کے دورے یا شدید سانس کی بیماری کی نشاندہی بھی کر سکتی ہیں۔ بروقت تشخیص اور علاج نہ صرف پیچیدگیوں سے بچا سکتا ہے بلکہ جان بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں پانی کا مناسب استعمال، صاف ہوا کا خیال رکھنا اور پہلے سے موجود بیماریوں کے مریضوں کا اپنی دواؤں کو باقاعدگی سے استعمال کرنا انتہائی ضروری ہے، سینے میں بھاری پن کو محض موسم کا اثر سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے اگر علامات بار بار یا شدت کے ساتھ ظاہر ہوں تو فوری طبی مشورہ لینا ہی محفوظ راستہ ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھاری پن

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن