پنجاب میں امراض قلب کے علاج کے لیے جدید انٹراویسکولر سرجری کی تکنیک متعارف کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پنجاب میں امراض قلب کے علاج کے لیے ایک جدید ترین تکنیک، انٹراویسکولر سرجری، متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ تکنیک روایتی اوپن سرجری کا ایک محفوظ اور جدید متبادل ہے، جس میں خون کی نالی میں ایک چھوٹے سے سوراخ کے ذریعے انجیوپلاسٹی، اسٹینٹ اور ابلیشن کی جاتی ہے۔
امریکی ڈاکٹروں کی جانب سے اس جدید تکنیک کے لیے پنجاب کے ڈاکٹروں کو ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔ چلڈرن اسپتال، نشتر اسپتال اور جناح اسپتال کے ڈاکٹروں کو اس جدید طریقہ کار کی ٹریننگ دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور نواز شریف میڈیکل سٹی میں اس جدید تکنیک کو متعارف کرانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اس حوالے سے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی اوکلاہوما ہارٹ اسپتال کے چیئرمین، ڈاکٹر نعیم طاہرخیلی کی سربراہی میں ایک وفد سے ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران رخسانہ فاؤنڈیشن کی جانب سے صحت اور تعلیمی خدمات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے رخسانہ فاؤنڈیشن کی خدمات کی سراہنا کی اور انٹراویسکولر سرجری کے لیے جدید طبی آلات کی خریداری کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔