پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کردیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی بحران شدید موسمی حالات، مسلسل بارشوں اور طوفانوں کے باعث مزید سنگین ہو چکا ہے جبکہ ناکافی انسانی امداد، بنیادی ضروریات کی شدید قلت اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے درکار سامان کی سست رفتار ترسیل نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔
وزرائے خارجہ نے نشاندہی کی کہ خراب موسم نے غزہ میں موجود انسانی حالات کی نازک کیفیت کو بے نقاب کردیا ہے جہاں تقریباً 19 لاکھ بے گھر افراد ناکافی عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
بیان کے مطابق زیرِ آب خیمے، متاثرہ عمارتوں کا گرنا، سرد موسم اور غذائی قلت نے عام شہریوں خصوصاً بچوں، خواتین، بزرگوں اور بیمار افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے جس سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
????PR No.
Joint Statement by the Foreign Ministers of Pakistan,Egypt, Indonesia, Jordan,Qatar,Saudi Arabia,Turkiye, and the United Arab Emirates https://t.co/xaUMMjjGxW
????⬇️ pic.twitter.com/XrrIX3E6KM
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 2, 2026
مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کے تمام اداروں بالخصوص یو این آر ڈبلیو اے اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں کی کاوشوں کو سراہا گیا جو انتہائی مشکل حالات کے باوجود فلسطینی عوام تک امداد پہنچا رہی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اقوام متحدہ اور بین الاقوامی این جی اوز کو غزہ اور مغربی کنارے میں بلا رکاوٹ، مسلسل اور محفوظ انداز میں کام کرنے کی اجازت دے کیونکہ انسانی امدادی عمل میں ان کا کردار ناگزیر ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان اداروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ وزرائے خارجہ جنگ بندی کے تسلسل، غزہ میں جنگ کے خاتمے، فلسطینی عوام کو باعزت زندگی کی فراہمی اور فلسطینی خودمختاری و ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد راستہ ہموار کرنے کے لیے ان منصوبوں کے مؤثر نفاذ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
وزرائے خارجہ نے فوری طور پر بحالی کے اقدامات شروع کرنے اور انہیں وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا، جن میں سخت سردیوں سے بچاؤ کے لیے پائیدار اور باعزت پناہ گاہوں کی فراہمی شامل ہے۔
مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور قابض طاقت ہونے کے ناطے اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ خیموں، پناہ گاہوں کے سامان، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی کی سہولیات سمیت ضروری اشیاء کی غزہ میں داخلے اور ترسیل پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔
بیان میں اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے کھولنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کے لیے گیا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند