میرا برانڈ پاکستان اسلامی یکجہتی اور معاشی خودداری کی علامت ہے، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میرا برانڈ پاکستان اسلامی یکجہتی اور معاشی خودداری کی علامت ہے۔
ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کے تحت چوتھے میرا برانڈ پاکستان ایکسپو کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسرائیل کے ظلم و جارحیت کے نتیجے میں میرا برانڈ پاکستان کا آئیڈیا سامنے آیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے مطابق متعدد مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں اور خواہش ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر مسلم ممالک بھی اپنی مصنوعات متعارف کرائیں تاکہ عالم اسلام کے درمیان تجارتی روابط مضبوط ہو سکیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان بزنس فورم کی جانب سے قومی برانڈز کے فروغ کا آغاز خوش آئند ہے اور یہ نمائش صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ لاہور میں بھی منعقد کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا کردار صرف تنقید تک محدود نہیں بلکہ خامیوں، برائیوں اور کرپشن کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ عوام کی آواز بلند کرنا اور اپنے حصے کا عملی کردار ادا کرنا بھی جماعت اسلامی کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوموں کی ترقی کے لیے نظریاتی یکجہتی کے ساتھ معاشی خودانحصاری بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے بنو قابل پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جین زی سے تعلق رکھنے والے 12 لاکھ نوجوان اس پروگرام سے پورے پاکستان میں جڑ چکے ہیں۔ اس پروگرام کا آغاز کراچی سے ہوا اور اب یہ پورے ملک میں نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ مغربی دنیا میں بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہے اور یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اسرائیل کی ریاست جھوٹ اور جارحیت پر قائم ہے، جو متعدد بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر چکی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان کی مصنوعات کا معیار عالمی سطح کا ہے، تاہم اگر ان کی قیمتیں کم کی جائیں تو برآمدات میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے امدادی سرگرمیوں کے تحت فلسطین تک سامان پہنچایا، جو انسانیت سے وابستگی کا عملی ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام کا نظام عدل انسانیت کے لیے بہترین نظام ہے۔ پاکستان کو فنون لطیفہ، تجارت اور آئی ٹی کے شعبوں میں قیادت کی ضرورت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کے صدر سہیل عزیز نے کہا کہ آج پورا ملک اس بات پر متفق ہے کہ پاکستانی برانڈ کو فروغ دیا جائے۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف بائیکاٹ مہم کے تناظر میں پہلی بار میرا برانڈ پاکستان ایکسپو کا آغاز کیا گیا، جس میں 250 سے زائد اسٹالز لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دو روزہ ایکسپو ہفتے اور اتوار کو جاری رہے گی، جہاں اشیائے صرف رعایتی نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔
آرٹس کونسل پاکستان کے صدر سید احمد شاہ نے نوجوانوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بنو قابل پروگرام میں نوجوان نئے آئیڈیاز اور کورسز پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی گلیوں اور محلوں سے نکل کر دنیا میں کاروبار کرنا ہماری صلاحیتوں کا ثبوت ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پاکستان کو لوٹائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں اور سابق صدر کراچی چیمبر جاوید بلوانی نے بھی مقامی برانڈز کے فروغ، درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے میرا برانڈ پاکستان ایکسپو کو ملکی معیشت کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل حافظ نعیم الرحمن نے کہا میرا برانڈ پاکستان جماعت اسلامی کہ پاکستان نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔