راولپنڈی میں ڈکیت گینگ کے 4 ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
راولپنڈی میں ایک خطرناک ڈکیتی گروہ کے خلاف پولیس کی کارروائی میں چار مشتبہ ڈاکو ہلاک ہو گئے، جس کے بعد شہر میں سیکیورٹی کی صورتحال پر فوری نظر رکھی گئی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کار چھیننے کی اطلاع موصول ہوئی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مشکوک گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق ملزمان نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے چاروں ڈاکوؤں کو ہلاک کر دیا۔
راولپنڈی پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ یہ گروہ پہلے سے مختلف شہروں میں جرائم کا ارتکاب کر رہا تھا اور ہلاک ہونے والے ڈاکو راولپنڈی، پشاور اور اسلام آباد میں قتل، ڈکیتی اور کار چھیننے جیسے سنگین مقدمات میں مطلوب تھے۔
مزید برآں، ترجمان نے بتایا کہ چند روز قبل اسی ڈکیتی گینگ کے افراد پر صدر بیرونی علاقے میں ایک تاجر کے قتل کا الزام بھی تھا، جس کے بعد گروہ کی موجودگی اور حرکتیں حساس ہوگئی تھیں۔ پولیس نے واقعے کے بعد علاقے میں اضافی چیکنگ اور سیکیورٹی اقدامات کو یقینی بنایا، تاکہ شہریوں کی حفاظت اور مزید جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
یہ کارروائی راولپنڈی پولیس کی بروقت اور ہدفی کاروائی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف مجرمان کے خلاف سخت پیغام گیا بلکہ شہریوں میں تحفظ کا احساس بھی بڑھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔