معرکہ حق کی کامیابی کی طرح معرکہ معیشت میں ترقی حاصل کریں گے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ معرکہ حق کی کامیابی کی طرح معرکہ معیشت میں ترقی حاصل کریں گے۔
ایک بیان میں احسن اقبال نے کہا کہ آج ملک کے ڈیمز اور صنعت سمیت ہر چیز کے پیچھے انجینئرز کا ہاتھ ہے، انجینئر ہی وہ شخص ہے، جو انسانی مسائل کو حل کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہر جگہ تبدیلی لے کر آ رہی ہے، ہماری نسل نے تختی سے 5 جی کا سفر دیکھا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزارت پلاننگ نے ہر ترقیاتی منصوبے میں 1 سال کا انٹرن شپ پروگرام متعارف کروانا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ آج ملک کی معشیت سنبھل رہی ہے، جیسے معرکہ حق میں کامیابی حاصل کی ویسے ہی معرکہ معشیت میں ترقی حاصل کریں گے۔
احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ معشیت کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں اسی جذبے سے کام کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: احسن اقبال کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔