وینزویلین صدر کا اغوا، حکمرانی صرف طاقت کی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ قانون کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمان صاحب نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا لکھتے ہیں: بین الاقوامی قانون اتنا بے وقعت ہوچکا ہے کہ اسے بطور اکیڈمک ڈسپلن ختم ہی کر دینا چاہیئے! یہ ایک استاد کا احتجاج ہے، جو بین الاقوامی قانون کا ماہر ہے۔ اہل وطن، حقیقت یہی ہے کہ طاقت ہی سب کچھ تھا، ہے اور مستقبل میں بھی یہی رہے گی۔ وقتی طور پر مصلحت کے تحت طاقتوروں نے کچھ نقاب پہن لیے تھے، اب وہ آہستہ آہستہ یہ نقاب اتار رہے ہیں اور ہمیں اصل چہرے نظر آنے لگے ہیں۔ہم وینزویلا کی عوام کے ساتھ ہیں خدا انہیں سر بلند کرے۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
سوشل میڈیا پر بے بسی کی علامت بنی ایک تصویر جاری کی گئی ہے۔ یہ وینزویلا کے صدر کی تصویر ہے، جنہیں امریکی وینزویلا سے اغوا کرکے لائے ہیں۔ ان کا قصور فقط یہ ہے کہ ان کے ملک میں تیل بہت زیادہ ہے، جو امریکہ کو مفت درکار ہے۔ وینزویلا کے صدر کی بے بسی بتا رہی ہے کہ وہ سوچ رہے ہوں گے، کاش ہم نے ایٹم بم بنا لیا ہوتا، کاش ہماری طاقتور فوج ہوتی، مگر اب کیا کیا جا سکتا ہے۔؟ منافق ہر معاشرے میں موجود ہیں اور ظالم انہیں خرید کر ہیرے لوگوں کو اغوا کر لیتے ہیں۔ یہ تصویر بہت سے دارالحکومتوں پر اثر انداز ہوگی۔ یوں لگتا ہے کہ اب دنیا میں سرد جنگ والی کیفیت ہوگی۔ چھوٹے ممالک بڑے ممالک کی پناہ میں آنے میں ہی اپنی عافیت سمجھیں گے۔ تاریخ کا سبق بھی یہی ہے اور حال بھی یہی بتا رہا ہے کہ طاقت، طاقت اور صرف طاقت ہی آپ کا تحفظ کرسکتی ہے۔ اس لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر طاقت جمع کرنا ہوگی۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کا اعلان ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ بیان میں کیا کہ امریکہ نے کامیابی کے ساتھ وینزویلا اور اُس کے رہنماء صدر نکولس مادورو کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر کو کوئی بتائے کہ دوسرے ممالک کے منتخب رہنماوں کو ان کے ممالک سے گرفتار نہیں اغوا کیا جاتا ہے۔ آپ نے جتنا ڈرانا تھا، اتنا ڈرا لیا، جتنا دھمکانا تھا، دھمکا لیا، مگر اس کے باوجود صدر مادورو اپنی ریاست کے مفادات کے ساتھ کھڑے رہے۔ اس سے قبل امریکہ نے صدر مادورو کے اغوا میں مدد دینے والی معلومات پر 50 ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا۔ اسی وقت یہ بات محسوس کی گئی تھی کہ امریکہ براہ راست لوگوں کو اکسا رہا ہے کہ وہ وینزویلا کے صدر کے ساتھ غداری کریں اور اپنے صدر کو اغوا کروانے میں امریکہ کی مدد کریں۔
ابھی تک تو ابتدائی اطلاعات ہیں، مگر یہی ہوا ہوگا کہ کسی غدار نے اندر سے غداری کی ہوگی، جس پر امریکی فورسز نے ایک پرامن ملک پر حملہ کر دیا۔ آپ وینزویلا کے صدر پر لگائے گئے بیہودہ الزام کا مشاہدہ کریں، امریکہ کی طرف سے کہا گیا کہ وہ ایک بین الاقوامی سطح پر منشیات سمگلنگ کرنے والی مبینہ تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز نے کہا ہے کہ وینزویلا کو اپنی تاریخ کی اب تک کی بدترین جارحیت کا سامنا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وینزویلا صدر مادورو کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے تمام مسلح افواج کو ملک بھر میں تعینات کر رہا ہے۔ وزیرِ دفاع نے کہا کہ انھوں نے ہم پر حملہ کیا ہے، لیکن وہ ہمیں زیر نہیں کر سکیں گے۔ وزیر دفاع درست کہہ رہے ہیں، مگر چیخیں گے، چلائیں گے، حقیقت یہ ہے کہ دنیا طاقتور کے سامنے خاموش رہے گی بلکہ اس کی حمایت کرے گی۔
دو پڑوسی ملکوں نے ردعمل دیا ہے۔ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کولمبیا کی حکومت وینزویلا میں حالیہ گھنٹوں کے دوران ریکارڈ کی گئی دھماکوں اور غیر معمولی فضائی سرگرمیوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کو باعثِ تشویش سمجھتی ہے۔ کولمبیا کا مؤقف خطے میں امن قائم رکھنے پر مبنی ہے اور ہم فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ تمام فریقین سے مطالبہ ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کریں، جو تصادم کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور مکالمے اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں۔کیوبا کے صدر میگل ڈيازکینل نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری ردعمل کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملے کو جرائم پر مبنی حملہ قرار دیا۔ ہمارے امن زون کو بُری طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بہادر وینزویلائی عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی جا رہی ہے۔
میں کافی عرصے سے لکھ رہا ہوں کہ اقوام متحدہ سمیت امریکہ اور مغرب کے بنائے نام نہاد بین الاقوامی ادارے ناکام ہوچکے ہیں۔ یہ کاغذی ردعمل بھی وہیں دیتے ہیں، جہاں امریکہ اور یورپ کا کوئی مفاد ہو، ورنہ یہاں شہر خاموشاں کا سکوت ہوتا ہے۔ آپ اسرائیل کی فلسطینیوں کی نسل کشی کے موضوع پر ہونے والی ڈیبیٹس اٹھا کر دیکھیں، آپ کو کوئی معمولی سی ایسی قرارداد نہیں ملے گی، جہاں ان انسانیت دشمن اقدامات کی ذمہ داری اس پر ڈال کر مذمت ہی کر دی گئی ہو۔ کارروائی کرنا اور پابندیاں لگانا تو بہت دور کی بات ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ قانون کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمان صاحب نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا لکھتے ہیں: بین الاقوامی قانون اتنا بے وقعت ہوچکا ہے کہ اسے بطور اکیڈمک ڈسپلن ختم ہی کر دینا چاہیئے! یہ ایک استاد کا احتجاج ہے، جو بین الاقوامی قانون کا ماہر ہے۔ اہل وطن، حقیقت یہی ہے کہ طاقت ہی سب کچھ تھا، ہے اور مستقبل میں بھی یہی رہے گی۔ وقتی طور پر مصلحت کے تحت طاقتوروں نے کچھ نقاب پہن لیے تھے، اب وہ آہستہ آہستہ یہ نقاب اتار رہے ہیں اور ہمیں اصل چہرے نظر آنے لگے ہیں۔ہم وینزویلا کی عوام کے ساتھ ہیں خدا انہیں سر بلند کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی قانون وینزویلا کے صدر بھی یہی ہیں اور کے ساتھ رہے ہیں ا ہستہ رہا ہے ہے اور کر دیا
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔